وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری کی تقرری کے خلاف دلائل طلب
لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل سے رواں ماہ 7 ستمبر کو دلائل طلب کرلیے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کی تقرری کے خلاف درخواست عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے اور سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کی تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس انوار حسین نے شہری اختر علی کی درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائیکورٹ نے لیگی رہنماؤں کے وکیل کی استدعا مسترد کردی
فواد چوہدری پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں اور وزرا پر برس پڑے
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر کیے۔
ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اختر جاوید ملک نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا۔
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے. درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے ، عدالت بے بنیاد درخواست کی پزیرائی نہ کرے.
دوسری طرف درخواست گزار کی طرف سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ محمد خان بھٹی پرنسپل سیکرٹری کی کوالیفکیشن پر پورا نہیں اترتے.
محمد خان بھٹی کو پرویز الہٰی نے اپنے حلف سے قبل سیکرٹری اسمبلی کی حیثیت سے ٹرانسفر کیا، بعد ازاں اپنی غلطی کا اعتراف ہونے پر ایک دوسرے نوٹیفیکیشن کے ذریعے اپنا پرنسپل سیکرٹری لگا دیا۔
پرنسپل سیکرٹری کی پوسٹ پر صرف سروسز گروپ کے افسر کو لگایا جا سکتا ہے. محمد خان بھٹی کی تقرری سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز اور پروونشل مینجمنٹ سروسز کے افسران کی حق تلفی کی گئی۔
عدالت نے سرکاری وکیل کے اعتراضات پر درخوست گزار کے وکیل سے دلائل مانگتے ہوئے درخواست پر سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ درخواست میں چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری سروسز اور پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ محمد خان بھٹی کی بطور پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ تقرری کو کالعدم قرار دے ، عدالت اس پوسٹ پر تقرری قانون کے مطابق کرنے کا حکم دے.









