کیا صحافیوں کا چیف جسٹس کے طرز عمل پر سوال اٹھانا توہین عدالت نہیں؟

سینیئر صحافیوں کا جسٹس اطہر من اللہ کی عمران خان سے دوستی کا دعویٰ، وزارت عظمیٰ کے دوران عمران خان کی جسٹس اطہر من اللہ سے ٹیلی فون پر بات ہوتی رہی، اعزاز سید: سمجھ نہیں آئی کہ چیف جسٹس کو عمران خان کے جواب سے ذاتی طور پر مایوسی کیوں ہوئی؟ نجم سیٹھی

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے  توہین عدالت کیس میں   تحریک انصاف   کے سربراہ عمران خان کو ایک اور موقع دیے جانے پر بعض سینئر صحافیوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کے طرز عمل پر سوالات اٹھادیے۔

سینئر صحافی اعزاز سید  نے دعویٰ کیا ہے کہ چید جسٹس اطہرمن اللہ کی عمران خان سے دوستی ہے ا ور عمران  خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران دونوں کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت بھی ہوتی رہی ہے۔سینئر صحافی نجم سیٹھی نے بھی کچھ اسی قسم کے تاثرات کا اظہا ر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کیس میں عمران خان کو ایک اور موقع

دہشتگردی کیس ، عمران خان کی ضمانت میں 12 ستمبر تک مزید توسیع

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گزشتہ سماعت میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو توہین عدالت کیس میں 7 دن بعد دوبارہ جواب جمع کرانے کا موقع دیا تھا کیونکہ سیاستدان اپنے سابقہ ​​جواب کے ذریعے عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا تھا۔

اسلام آباد کی جج زیبا چوہدری کیخلاف توہین آمیز ریمارکس کے باوجود  عمران خان کے ساتھ مبینہ طور پرمسلسل نرم رویہ  اپنانے  پر ناقدین مسلسل اسلام آباد ہائیکورٹ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

 یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والے  پروگرام ٹالک شاک میں سینئر صحافی عمر چیمہ سے گفتگو کرتے ہوئے  سینئر صحافی اعزاز سید نے  کہا کہ میں آپ کو پوری ذمہ داری کے ساتھ معلومات دینا چاہتا ہوں کہ  عمران خان وزیراعظم تھے تو ان کی متعدد مواقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ فون پر اور ویسے بھی بات ہوئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور عمران خان نے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور متعدد مواقع پر ایک دوسرے سے ملاقات بھی کی تھی جب کہ پی ٹی آئی کے سربراہ وزیراعظم تھے۔ یہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کو بذات خود ٹیلی فون کیا تھا لیکن مجھے معلوم ہے کہ دونوں نے کئی بار ٹیلی فون پر بات کی۔

اعزاز سید نے کہا کہ  ظاہر ہے کہ یہ گفتگو ایگزیکٹو ہیڈ کے طور پر کی گئی ہوگی۔اس پر عمر چیمہ نے کہا کہ یہ ظاہر ہے والی بات نہیں ہے ، یہ بڑی سنجیدہ بات ہے،ایک چیف جسٹس ایک وزیراعظم کو کال کررہےہیں تو یہ سنجیدہ بات ہے۔ اس پر اعزاز سید نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ چیف جسٹس نے کال کی۔عمر چیمہ نے کہا کہ جس نے بھی کال کہ یہ بھنوئیں چڑھانے والی بات ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی اور اینکر پرسن نجم سیٹھی نے  اپنےیوٹیوب چینل پر نشر ہونے والے شو میں کہا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت کیس میں ریمارکس دیے کہ انہیں  عمران خان کا جواب پڑھ کر ذاتی طور پر مایوسی ہوئی ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اب مجھے نہیں پتہ کہ انہیں ذاتی طور پر کیوں مایوسی ہوئی ہے؟ اس میں ذات کا تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، کیا معروف ہونا ذات کا مسئلہ بن جاتا ہے اور غیرمعروف ہونا غیرذات کا مسئلہ ہوتا ہے، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

پروگرام میں شریک خاتون اینکر نے لقمہ دیا کہ آپ کو ان کی مایوسی سے مایوسی ہوئی ؟ نجم سیٹھی نے کہا کہ ہاں مجھے  ہوئی، میں نے کہا کہ یہ  کوئی بات کرنے والی ہے؟ کہ آپ کو ذاتی مایوسی ہوئی ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ چلیں آگے بڑھتے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ ان کی  دوستی ہو، اس لیے اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں مگر اگر دوستی بھی ہے تو اس قسم کی کھلی عدالت میں  ظاہر نہیں کی جاتی ، پھر لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ تو متعصب ہیں ، آپ کی تو  دوستی ہے، آپ کو تو ذات یاد آگئی۔

 تجزیہ کاروں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان کے توہین عدالت کیس پر صحافیوں کے تبصرے کو توہین عدالت سمجھا جائے کیونکہ انہوں نے   چیف جسٹس  اسلام آباد ہائیکورٹ کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مین اسٹریم میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا نے ہنگامہ برپا کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ  گھٹنے ٹیک چکی ہے لیکن توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو تین مواقع دیے تھے۔

متعلقہ تحاریر