شیخ رشید نے چوہدری برادران کے اختلاف ختم کرانے میں ثالثی کی پیشکش کر دی
شیخ رشید نے نے کہا ہے کہ نواز شریف کا حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ درست تھا۔
لاہور ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کی اینٹی کرپشن میں طلبی کے نوٹسز کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس امجد رفیق نے پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست پر سماعت کی۔
اینٹی کرپشن نے تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔ عدالت میں جمع اینٹی کرپشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شیخ رشید کی حد تک الزامات ثابت نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
کنول شوزب کا حکومت پر ڈیپ فیک کی مدد سے ہراساں کرنے کا الزام
آرمی چیف کی تقرری میرٹ پر ہونی چاہیے، زرداری اور شریفوں کی مرضی کا نہیں آنا چاہیے، عمران خان
شیخ رشید کو جاری طلبی کے نوٹسز محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے واپس لینے پرعدالت نے شیخ رشید کی درخواست کو غیرمؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔
یاد رہے کہ شیخ رشید کو زمین کی سرکاری فیس میں ردوبدل کرنے پر نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا شہباز شریف کی حکومت عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، عمران خان 24 گھنٹوں میں لاکھوں کے جلسے کررہا ہے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی آپس میں صلح کرلیں، صلح کرانے میں اگر مجھے کوئی کردار دیں تو میں ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
شیخ رشید نے نے کہا ہے کہ نوازشریف کا حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ درست تھا۔
سابق وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی ہے، اس حکومت کو کوئی پیسے دینے کے لیے تیار نہیں ہے
شیخ رشید نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد ان کے سارے کیسز ختم ہوچکے، نیب سے جو کیس انہوں نے ختم کرایے وہ کیسز بھی سپریم کورٹ میں لگے ہیں، رٹ دائر کرنے کا جارہا ہوں کہ وزرا کی تعداد آئیں میں دیے گئے طریقہ کار سے زیادہ ہے۔









