نواز شریف کی جائیدادوں کا معاملہ، احتساب عدالت نے 15 ستمبر کو دلائل طلب کرلئے
یاد رہے کہ عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جائیدادوں کو نیلام کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جائیدادوں کو نیلام کرنے کے خلاف دائر اعتراضات پر سماعت کرتے ہوئے وکلاء کو دلائل کے لیے 15 ستمبر کو طلب کرلیا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جائیدادوں کو نیلام کرنے کے خلاف دائر اعتراضات پر سماعت احتساب عدالت نمبر ایک کے جج اسد علی نے کی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی جائیدادیں فروحت ہوچکی ہیں نواز شریف کی جائیدادوں کو نیلام کرنے سے دیگر شیئر ہولڈرز کو نقصان ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
بینک آف پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ میں 1 کروڑ روپے جمع
عدالت جائیدادوں کو نیلام کرنے سے روکنے کا حکم دے عدالت نے اعتراضات پر سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی اور وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کرلیا۔
یاد رہے کہ عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جائیدادوں کو نیلام کرنے کا حکم دے رکھا ہے ، قاصی مصباح ایڈووکیٹ کی وساطت سے حکم امتناعی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
سات فریقین کی جانب سے نواز شریف کی جائیداد کی نیلامی کو روکنے کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف ملک واپس آ گئے تو جائیداد کی نیلامی کا عمل چلینج ہو جائے گا، بہتر ہے نیلامی کچھ عرصہ کے لیے روک دی جائے، شمیم زرعی فارم اور جائدادیں کرایہ داروں کے پاس ہیں، نیلامی سے شمیم زرعی فارم کے کرایہ داروں کے حقوق متاثر ہونگے۔
عدالت سے استدعا میں درخواستگزار نے کہا کہ جائیدادوں کی وراثت منتقل ہو گئی ہے لہذا عدالت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں، عدالت نیلامی کیخلاف حکم امتناعی جاری کرے۔









