راولپنڈی کے پرائیویٹ اسکولز طلباء سے بجلی کی قیمت بھی وصول کرنے لگے
نجی اسکولز نے شہریوں کو لوٹنے کے لیے نیا طریقہ نکالتے ہوئے طلباء کے فیس واؤچرز میں بجلی کی قیمت شامل کرنا شروع کر دی ہے۔
پہلے ہی آسمان کو چھوتی مہنگائی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے دوسرا سونے پہ سہاگہ یہ کہ راولپنڈی کے پرائیویٹ اسکولز نے بھی انہیں نشانہ پر رکھ لیا ہے اور طلباء کے فیس واؤچرز میں بجلی کی قیمت شامل کرنا شروع کر دی ہے۔
راولپنڈی کے متعدد نجی اسکولز کی جانب سے ستمبر کے مہینے کے فیس واؤچرز جاری کیے گئے ہیں جن میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر تعلیمی اداروں کی بجلی کے اخراجات شامل کیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پولیس نے آرٹسٹک ملینرز ریپ کیس دبا دیا، متوفیہ بغیر پوسٹ مارٹم سپرد خاک
فرسودہ روایات میں جکڑے بستی احمد دین کے باسی سیلاب میں رہنے پر بضد
صرف بجلی کی قیمت ہی نہیں بلکہ پرائیویٹ اسکولز نے والدین کو پانی اور سیکورٹی سمیت متفرق چارجز بھی ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔
پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے یہ اقدام حکومتی ہدایات کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اسکولز کو صرف ٹیوشن فیس وصول کرنے تک محدود رکھا ہے۔
تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے مذکورہ نجی اسکولز کی انتظامیہ کے خلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
یہ اطلاعات بھی سامنے ائی ہیں کہ جن والدین کے ایک سے زیادہ بچے اسکول میں داخل ہیں انہیں ہر بچے کے لیے الگ سے الگ سے بجلی کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ کچھ والدین نے نجی سکولوں کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اقدام کو روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر عرفان مظفر کیانی نے اپنی ایسوسی ایشن کو کچھ اسکولز کے فیصلوں سے الگ کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن نے ایسے احکامات جاری نہیں کیے ، یہ اقدام کچھ پرائیویٹ اسکولز کا اپنا فیصلہ ہے۔
محکمہ تعلیم راولپنڈی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ صوبائی محکمہ تعلیم اور متعلقہ کمشنر سے مشاورت کے بعد شکایات پر مناسب کارروائی کریں گے۔









