آئی ایم ایف کی امداد کے باوجود روپیہ مستحکم نہیں ہوسکا، ایک ڈالر 239 روپے کا ہوگیا

آئی ایم ایف کی امداد کے باوجود  کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں سخت دباؤ کا شکار ہے، آج اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر239 روپے کی سطح پر پہنچ گیاجبکہ انٹربینک میں بھی2روپے 40 پیسے مہنگا ہوا، معیشت دانوں نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں آنے کے بعد  روپے کے استحکام کی نوید سنائی ہے

کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالرکے مقابلے میں سخت دباؤ کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز امریکی ڈالرکی قدر میں 2 روپے 40 پیسے کا اضافہ ہوا جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی روپیہ گراوٹ کا شکار بنارہا۔

ملک کی معاشی و سیاسی صورتحال اورحالیہ سیلاب کے پیش نظر امریکی ڈالر روز بروز مہنگا ہوتا جارہا ہے جبکہ پاکستانی روپیہ اپنی قدر میں کمی  ہونے کی وجہ سے مسلسل دباؤ کا شکار بن چکا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

رواں ماہ ستمبر کے پہلے13دنوں میں ایک ڈالر 14روپے تک مہنگا ہوگیا

اسٹیٹ بینک پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق آج انٹربینک میں ایک  ڈالر2 روپے 40 پیسے مزید مہنگا ہوگیا۔ 2 روپے 40 پیسے اضافے سے ایک ڈالر انٹربینک میں 234 روپے 32 کا ہوگیا  ہے ۔

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی روپیہ گراوٹ کا شکار نظر آیا۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالرایک روپیہ مہنگا ہوکر  239 روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) سے ایک اعشاریہ 16 ارب ڈالر کی قسط موصول ہونے کے باوجود روپے  کی قیمت میں استحکام نہیں آپا رہا ہے ۔

معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالرکے انڈیکس میں اضافے کی وجہ سے پاکستانی کرنسی کی قدر مستحکم نہیں ہو رہی تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی کا امکان ہے ۔

متعلقہ تحاریر