پاکستان خواتین فٹبالر کے لباس سے متعلق صحافی کا عجیب سوال تنقید کی زد میں آگیا
صحافی نے سوال کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خواتین فٹ بالر نیکر پہن کر کیوں ٹورنامنٹ میں شریک ہوئیں تو سوشل میڈیا صارفین نے صحافی سے سوالات پوچھ ڈالیں، ٹوئٹر صارف نے پوچھا آپ نے کبھی مرد کھلاڑیوں سے پوچھا وہ کیوں نیکر پہن کر کھیلتے ہیں؟ ساری اخلاقیات خواتین کیلئے رہ گئیں ہیں ؟

ساف ویمنز چیمپئن شپ 2022 میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر پریس کانفرنس کے دوران لاہورکے ایک صحافی نے خواتین فٹ بالر کے لباس پر سوال اٹھایا تو سوشل میڈیا صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ۔
خواتین ٹیم فٹبال ٹیم ساف ویمنز چیمپئن شپ 2022 میں شرکت کے بعد وطن واپسی پہنچی تو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تاہم صحافی کے خواتین ٹیم کے لباس سے متعلق سوال نے ماحول کو ناگوار بنا دیا ۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی ویمن فٹبال ٹیم نے مالدیپ کو7 گول سے شکست دیکر تاریخ رقم کردی
لاہورکے ایک رپورٹرنے خواتین ٹیم کے ہیڈ کوچ عدیل ذکی سے سوال کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خواتین فٹ بالر نیکر پہن کر کیوں ٹورنامنٹ میں شریک ہو ئیں ؟۔
Only in Pakistan 😑#saffwomenschampionship @TheRealPFF pic.twitter.com/UPXwtiJMqi
— Muneeb Farrukh (@Muneeb313_) September 15, 2022
پاکستانی خواتین کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ عدیل ذکی نے کہا کہ کہ کھیلوں کی ترقی کی بات کی جائے۔ ٹیم کے یونیفارم کا معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔
عدیل نے سوال کے جواب میں کہا کہ کھیلوں میں بہتر ہونا ضروری ہے۔ لباس کا فیصلہ کھلاڑی پر منحصر ہے وہ کیا پہنتی ہیں کیونکہ اس حوالے سے کوئی اصول لاگو نہیں کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کچھ خواتین کھلاڑیوں نے شارٹس پہنا جبکہ کچھ لیگیز پہن کر کھیلتی رہیں ہیں اس پر ہمارا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔
پریس کانفرنس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سے وائرل ہونے کے بعد فٹ بال شائقین اور سوشل میڈیا نے رپورٹر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اخلاقی پولیسنگ سے پرہیز کا مشورہ دیا ۔
حبا نامی ٹوئٹرہینڈل سے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ کبھی انہوں نے مرد کھلاڑیوں یا مشہور شخصیات سے شارٹس پہننے سے متعلق سوال کیا ؟۔
I'm very curious to know if this journalist has ever questioned male sportsmen/celebrities of Pakistan for wearing shorts as that's un-islamic too or is all this religious moral policing only reserved for the women of Pakistan? https://t.co/GU9pn6Bz4Z
— Hiba (@Hibaah_yar) September 16, 2022
حبا نے کہا کہ کیا مرد سے لباس کے حوالے سے سوال پوچھنا غیراسلامی ہے ؟۔ کیا تمام اخلاقی پولیسنگ صرف پاکستان کی خواتین کیلئے مخصوص ہیں ؟۔
نورینہ شمس نامی خاتون ٹوئٹر صارف نے کہا کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صحافی نے کبھی یہ پوچھنے کی زحمت کی کہ پیسہ کب چوری ہوتا ہے؟ عہدوں کا استحصال کب ہوتا ہے؟ کرپشن کب ہوتی ہے؟۔
Did the Islamic republic of Pakistan’s journalist ever bothered to ask when money is stolen? When positions are exploited? When corruption is done? Why does all this boil down to the clothes of women? I wish them to be vocal about every wrong deed in our country. https://t.co/bdAnPMN3Xw
— Noorena Shams (@noorenashams) September 15, 2022
انہوں نے کہا کہ یہ سب عورتوں کے کپڑوں پر کیوں ابلتے ہیں ؟۔ میری خواہش ہے کہ وہ ہمارے ملک میں ہونے والے ہر غلط کام کے بارے میں آواز اٹھائیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کی خواتین فٹبال ٹیم نے ساف چیمپئن شپ کے ایک میچ میں مالدیپ کی ٹیم کو سات گول دیکر شکست دیکرتاریخ رقم کردی۔
پاکستانی خواتین فٹ با ل ٹیم ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن ویمنز کے ایک میچ میں مالدیپ کو7 گول سے شکست دیکر گزشتہ 8 سالوں میں پہلی کامیابی حاصل کی ۔
پاکستانی خواتین فٹبال ٹیم کی تایخی جیت پر سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اورکھیلوں سے منسلک شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین سمیت عام عوام نے دل کھول کر ویمنز ٹیم کو داد دی۔
پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نوازنے ٹائٹر پراپنے پیغام میں قومی ویمن ٹیم کی صفر کے مقابلے میں7 گول سے شاندار فتح بہت زبردست رہی۔ گرین شرٹ خواتین نے آج ہمیں قابل فخر بنادیا ہے ۔
Our girls in green have made us super duper proud today. A 7-0 glorious, magnificent victory! Wow!
A big shout out to the players extraordinaire!
Pakistan zindabad!
🙌🇵🇰💚 pic.twitter.com/Afw2HKeIKw— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 13, 2022
اسپورٹس جرنلسٹ فیضان لاکھانی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہاکہ نادیہ خان فٹبال میچ میں چار گول کرنے والی پہلی پاکستانی کھلاڑی بن گئیں ہیں جبکہ انہیں حاجرہ اور ملیلہ نور کے ہمراہ سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا ہے ۔
Also, Nadia Khan today became first ever Pakistani to score 4 goals in a women's international match, with this she has also become Pakistan's joint leading scorer along with Hajra and Malila e Noor. pic.twitter.com/XoQHFO7SCN
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) September 13, 2022









