موہنجو دڑو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالے جانے کے خدشات

سندھ حکومت کی عدم دلچسپی سے موہنجو دڑو کوعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالے جانے کے خدشات جنم لینے لگیں ہیں، حالیہ طوفانی بارش اور سیلاب سے آثار قدیمہ کے کھنڈرات کی بہت سے دیواریں جزوی طور پر گرگئی جبکہ اسٹوپا اور کچھ گنبد کو بھی نقصان پہنچاہے پہنچا مگر  سندھ سرکار کے عہدیدار نہ سائٹ کا معائنہ کررہے ہیں اور ہی کوئی امدادی کام شروع کیا گیا

محکمہ آثارقدیمہ نے موہنجو دڑو کوعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالے جانے کے خدشات ظاہرکردیئے ہیں۔ محکمہ آثارقدیمہ نےسرکاری حکام کو انتباہ جاری کیا ہے کہ موہنجو دڑو کے تحفظ اور بحالی کے کام پر فوری توجہ نہ دی گئی توعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔

محکمہ آثار قدیمہ نے موہنجو دڑو کے تحفظ اور بحالی کے کام پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ایسا کام نہ کیا گیا تو اس مقام کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

موہن جو دڑو میں مجسمے پر لعنت یا اپنی ثقافت پر؟

ذرائع کے مطابق سندھ میں حالیہ بارش اور سیلاب سے موہنجو دڑو کی سائٹ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ موہنجو داڑو کے آثارقدیمہ کے کھنڈرات  کی  بہت سے دیواریں جزوہ طور پر گرگئی جبکہ اسٹوپا اور کچھ گنبد کو بھی نقصان پہنچاہے ۔

سائٹ کے کیوریٹرنے ثقافت، نوادرات اورآثار قدیمہ حکام کو خط کے ذریعے  نقصانات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ سائٹ کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنے طورپرتمام تر کوشش کرچکے ہیں تاہم اس میں دیگر محکموں کی مدد درکار ہے ۔

ذرائع نے بتایا گیا ہے کہ زمینداروں اورکسانوں نے سیلابی پانی سے اپنی زمینیں اور سڑکوں کو بچانے کیلئے موہنجو داڑو سائٹ کے نالوں میں پانی چھوڑ دیا جس کے کافی نقصان پہنچاہے ۔

خط کے متن میں کہا گیا کہ اس حوالے سے  محکمہ آبپاشی اور دیگر حکام سے مدد مانگی گئی تاہم  کوئی بھی سائٹ کا معائنہ کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے نہیں آیا۔

آرکیالوجی کے اہلکارنے بند کی مرمت، نہر کی ٹوٹ پھوٹ اورپائپوں کو ہٹانے کیلئے محکمہ آبپاشی اور سڑکوں کے ساتھ فوری رابطہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر