دنیا کا پاکستان پر عدم اعتماد: ڈینی لیپزائگر کا امداد شرائط کے تحت دینے کا مطالبہ

ورلڈ بینک کے سابق نائب صدر اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینی لیپزائگر نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی چائلڈ پوسٹرنہیں ہے، موسیماتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے امداد کی فراہمی سے پہلے اعتماد  کی فضا قائم کرنا ضروری ہے کہ سرمایہ کاری غلط جگہ استعمال نہ ہو

ورلڈ بینک کے سابق نائب صدر ڈینی لیپزائگرکا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اوردیگرعالمی اداروں کو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دی جانے والی امداد پر اعتماد ہونا ضروری ہے کہ اس کا استعمال درست سمت میں ہوگا ۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینی لیپزائگر پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی چائلڈ پوسٹر نہیں ہے کہ اسے  قرض کی فراہمی کے لیے  خبروں کی زینت بنایا جائے ۔

یہ بھی پڑھیے

سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے، نمائندہ آئی ایم ایف

ورلڈ بینک کے سابق نائب صدرنے کہا کہ  فنانشل ٹائمزکا موسمیاتی تبدیلیوں سے حوالے سے امیر ممالک سے اپنی ذمہ داریاں قبول  کرنے کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلوں سے لڑنے کیلئے پاکستان کا مقدمہ استعمال کرنے سے دلیل کمزور ہوسکتی ہے۔ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے چائلڈ پوسٹر نہیں ہو سکتا ہے ۔

پروفیسر جارج واشنگٹن یونیورسٹی نے کہا کہ پاکستان میں انسانی المیے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، انہیں انسانی بنیاد پر امداد  فراہم کی جانی چاہیے تاہم یہ موسمیاتی تبدیلی کا چائلڈ پوسٹر نہیں ہے ۔

ان کا کہنا تھا پاکستان بدترین مسائلکا شکار ملک ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ 22 ویں پروگرام میں یہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے سرمایہ کاری بہترین عمل نہیں ہوسکتا ہے ۔

ڈینی لیپزائگر نے کہا کہ پاکستان کو امداد دینے سے پہلے اعتماد  ضروری ہے کہ عوامی سرمایہ کاری کا انتظام خراب نہیں کیا جائے گا۔ شرائط کے تحت امداد کی جانی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مدد اس طرح کی جائے جیسا کہ چین نے سی پیک منصوبے کے تحت دی ہےتاکہ سرمایہ کاری کا وہیں استعمال ہو جہاں ہونے چاہیے ۔

متعلقہ تحاریر