روہڑی کا مختیارکار راتوں رات سیلاب متاثرین کا امدادی سامان ہڑپ کرگیا
روہڑی میں سیلاب متاثرین کیلئے آنے والا امدادی سامان مختیارکار کے دفتر سے راتوں رات غائب ہوگیا، متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ تمام امدادی راشن سرکاری افسران نے من پسند افراد میں تقسیم کردیا جبکہ ضرورت مند ابھی تک خالی ہاتھ گھوم رہے ہیں

روہڑی میں مختیارکارکے دفتر سے سیلاب متاثرین کیلئے آنے والا امدادی سامان غائب ہونے کا انکشا ف ہوا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کی آمد کے بعد صبح تقسیم کی جانی تھی تاہم راشن راتوں رات ہی غائب کردیا گیا ۔
روہڑی میں مختیارکار سیلاب متاثرین کا امدادی سامان کھا گئے جبکہ ضرورت مند متاثرین خالی ہاتھ ہی رہے۔ سیلاب متاثرین کے مطابق روہڑی کے مختیارکار دفتر میں راشن آیا تو ہمارے شناختی کارڈ جمع کرکے صبح بلایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
سیلاب زدگان کی امداد تو دور کی بات: سندھ اور بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں کے مریض رُل گئے
متاثرین نے بتایا کہ مختارکار کے دفتر میں شناختی کارڈ دیکھاکرامدادی سامان کی وصولی کیلئے رجسٹریشن کروائی گئی تاہم اگلے روز صبح سامان لینے پہنچے تو انکشاف ہوا کہ دفتر میں کوئی امدادی سامان موجود نہیں ہے ۔
روہڑی کے مختیارکار نے سیلاب کی وجہ سے اپنے مال و جائیداد سے محروم ہونے والے افراد کو فہر ست بناکر صبح امدادی سامان فراہم کرنے کا وعدہ کیا تاہم راتوں رات ہی تمام سامان غائب کردیا گیا ۔
متاثرین نے بتایا کہ عورتوں اور مردوں سے شناختی کارڈ جمع کروائے گئے کہ سامان آگیا ہے صبح تقسیم ہوگا مگر وہ رات میں ہی من پسند افراد کو دے دیا گیا جبکہ ضرورت مند خالی ہاتھ ہی رہے ۔
متاثرین نے کہا کہ جب اس حوالے سے مختیارکار کے عملے سے معلومات لینے کی کوشش کی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ دفتر میں موجود سامان کہاں گیا اس حوالے سے بھی خاموش رہے ۔
روہڑی کے سیلاب متاثرین نے وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین امدادی سامان اپنوں اپنوں میں تقسیم کررہے ہیں اس کا نوٹس لیا جائے ۔









