دائمی وارنٹ ختم ہوتے ہیں اسحاق ڈار نے پاکستان کے لیے رخت سفر باندھ لیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر اسحاق ڈار اگلے ہفتے پاکستان پہنچ جائیں گے۔

جمعہ کے روز احتساب عدالت کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل ہونے کے بعد سابق وزیر خزانہ نے لندن سے وطن واپسی کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے ، وہ گذشتہ 5 سالوں سے خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری کے حکم کو معطل کردیا ۔

دائمی وارنٹ گرفتاری 11 دسمبر 2017 کو اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں فرار ہونے کے بعد جاری کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا نے مدد نہ کی تو قیاقت آسکتی ہے، شہباز شریف پاکستانی معیشت کو دیوالیہ قرار دے دیا

موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا، وزیراعظم شہباز شریف

احتساب عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری 7 اکتوبر تک معطل کر دیے گئے۔ احتساب عدالت نے سینیٹر اسحاق ڈار کو سرنڈر کرنے کی شرط پندرہ دن کے لیے وارنٹ کو معطل کیا ہے۔

رہنما ن لیگ اسحاق ڈار کو اب اپنے وارنٹ کی منسوخی کے لیے عدالت میں پیش ہونا ہے ، تاہم احتساب عدالت کے جج کے پاس وارنٹ واپس لینے کا اختیار بھی ہے۔

قانونی شق کے مطابق اگر جج اس اختیار کا استعمال کرتے ہیں، تو اسحاق ڈار کو مزید ضمانت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

عدالتی فیصلے کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ اسحاق ڈار وطن واپس آکر مفتاح اسماعیل سے وزیر خزانہ کا چارج لے لیں گے۔ کمانڈ کی تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئے گی جب ملک کو اپنے بدترین معاشی بحرانوں کا سامنا ہے، کیونکہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بے مثال بگاڑ پیدا ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کا وقت اہم ہے کیونکہ موجودہ وزیر خزانہ کی چھ ماہ کی آئینی مدت 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔ چونکہ مفتاح اسماعیل منتخب رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں، اس لیے وہ اس سے زیادہ وفاقی وزیر کا عہدہ رکھ نہیں رکھ سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے 2018 میں اسحاق ڈار کو سینیٹر منتخب کرایا تھا ، جبکہ ہو لندن میں بیٹھے ہوئے تھے ، اب لندن سے واپس آکر سب سے پہلے وہ سینیٹرشپ کا حلف اٹھائیں گے۔ رواں سال کے شروع میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ویڈیو لنک کے ذریعے حلف اٹھانے کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

جمعہ کے روز احتساب عدالت میں سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے وکیل مصباح الحسن قاضی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل اب ٹرائل میں شامل ہونے اور عدالت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار ہیں اس لیے ان کے وارنٹ گرفتاری ختم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

وارنٹ گرفتاری واپس لینے کی ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے احتساب عدالت کے جج کہا کہ ہم گرفتاری کو معطل کرسکتے ہیں ، اگر اسحاق ڈار اپنے وعدے پر پورا اترے تو پھر عدالت دوبارہ غور کرسکتی ہے۔

اس کے بعد عدالت نے پولیس کو سینیٹر اسحاق ڈار کی پاکستان واپسی پر گرفتاری سے روک دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت کارروائی کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار اگلے ہفتے تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر