شہباز شریف اور وزیراعظم ہاؤس کی دو مبینہ آڈیو لیک، ایجنسیز کیا کررہی ہیں؟

مبینہ آڈیو لیک پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے 12 گھنٹے سے کم وقت میں دو مبینہ آڈیو لیک کا سامنا آنا اس بات کی گواہی ہے کہ مقتدر قوتیں کوئی نیا کھیل کھیلنے جارہی ہیں۔

12 گھنٹوں کے دوران وزیراعظم ہاؤس کی دو مبینہ آڈیو لیک سامنے آگئیں ، آڈیو لیک سے سلامتی سے متعلق معاملات پو سوالات اٹھ گئے ، وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم ، وفاقی وزراء اور ن لیگی ارکان اسمبلی کے اجلاس کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آگئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر وزیراعظم ہاؤس محفوظ نہیں ہے تو پھر عام آدمی کا ڈیٹا کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔

مبینہ آڈیو لیک میں وزیراعظم شہباز شریف ، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور سابق وزیراعظم ایاز صادق سمیت ن لیگی ارکان اسمبلی پی ٹی آئی کے استعفوں سے متعلق مشاورت کررہے ہیں۔

مبینہ آڈیو لیک میں پی ٹی آئی کے استعفوں سے متعلق وفاقی وزراء اور ن لیگی ارکان اسمبلی کی مختلف آراء سامنے آئیں۔ آڈیو لیک میں پی ٹی آئی کے استعفوں سے متعلق لندن سے بھی اجازت لینے کا ذکر آیا ہے۔

گذشتہ روز بھی وزیراعظم شہباز شریف اور شخص کی گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی تھی ، جن کی گفتگو کا مرکز مریم نواز اور ان کے داماد تھے۔ دوران گفتگو ایک شخص گفتگو کے دوران مبینہ طور پر شہباز شریف کو بتا رہا ہے کہ مریم نواز اپنے داماد کے لیے بھارت سے پاور پلانٹ درآمد کرنے کا کہہ رہی ہیں ، آدھا پلانٹ بھارت سے آچکا تھا آدھا باقی ہے، معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی میں جائے گا ، اس سے مشکلات پیدا ہوں گی ، شہباز شریف نے بھی مبینہ طور پر اس شخص کی بات سے اتفاق کیا ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا ہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے ، آپ درست کہہ رہے ہیں آپ خود بھی بات کرلیں۔ میں بھی مریم کو سمجھا دوں گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب کسی  کو بلیک میل کرنا ہوتا ہے یا کسی سے کوئی کام نکلوانا ہوتا ہے ، یا پھر کسی کو چلتا کرنا ہوتا ہے تو مقتدر قوتیں اپنے سرکردہ بندوں سے پہلے آڈیو بنواتے ہیں اور پھر آڈیو لیک کرواتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ابھی پچھلے دنوں شوکت ترین ، وزیر خزانہ خیبر پختونخوا اور وزیر خزانہ پنجاب کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی تھی مقصد کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جو وفاقی حکومت ڈیل کرنے جارہی ہے اس میں رخنہ نہ ڈالا جاسکے۔ اس طرح سے وزیراعظم ہاؤس سے اب نئی مبینہ آڈیو جاری ہو گئی ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ مقتدر قوتیں کوئی نیا کھیل کھیلنے جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کا دھماکہ، سیکیورٹی فورسز کے دو جوان شہید

عمران خان نے اسمبلی میں واپسی کو امریکی خط کی تحقیقات سے مشروط کردیا

تجزیہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ہوں یا کوئی اور وزیراعظم ہو ، آڈیو کا لیک ہونا ایک حساس معاملہ ہے ، اگر وزیراعظم ہاؤس محفوظ نہیں ہے تو پھر درجنوں کی تعداد میں بنائی گئی سیکورٹی ایجنسیز کیا کررہی ہیں؟ کسی عام بندے کی آڈیو یا ویڈیو لیک ہوتی ہے ایجنسیز گھنٹوں کے اندر اندر مطلوبہ شخص کو گرفتار کرلیتی ہیں ، مگر وزیراعظم ہاؤس سے لیک ہونے والی آڈیو کو 12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر گیا ہے مگر ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ، گرفتاری تو دور کی بات ہے کوئی کارروائی بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔ آٹھ جی بی کا چوری ہونے والا ڈیٹا 30 ملین ڈالر میں دستیاب ہے مگر ہماری سیکورٹی ایجنسیز ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہیں۔

متعلقہ تحاریر