صحافی اسد طور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر کامران خان پر برس پڑے
اسد طور نے سینئر صحافی کامران خان کے خلاف اخلاقیات سے گری گفتگو کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے کامران خان اور انکے اہلخانہ کو لعنت ملامت کی اور ان کی کمائی کو بھی حرام قرار دیا، عوام نے اسد طور کے طرز عمل کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کاایسا لہجہ تکبر کا احساس دلاتا ہے

صحافی اسد طورنے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان اور ان کے والدین کے خلاف سخت نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لعنت ملامت کی۔
دنیا نیوز کے سینئر اینکر پرسن کامران خان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پراپنے آفیشل اکاؤنٹ سے عسکری قیادت سے اپیل کی کہ کل نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس میں حکومتی ارکان کے خلاف جائزہ لیں۔
یہ بھی پڑھیے
جنرل باجوہ صاحب! ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہنا جرم ہے،کامران خان
کامران خان کا کہنا تھا کہ تینوں سروسز چیفس، چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کمیٹی اور انٹیلی جنس چیف نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس میں حکومتی لیڈرشپ سے پاکستان کی قومی سلامتی کوکوئی خطرہ تو نہیں؟۔
کل NSC اجلاس میں چئیرمین جوائنٹ چیفس فوجی سربراہان انٹیلیجنس چیفس ضرورجائزہ لیں حکومتی لیڈرشپ اپنے خلاف منی لانڈرنگ رشوت ستانی سنگین مقدمات ختم کرواتی مستقل رہائیش دبئی ایمریٹس ہل لندن مےفئیرایج وئیرروڈ بمعہ اولادوں کےبرقراررکھتی ہی توپاکستان کی قومی سلامتی کوکوئی خطرہ تو نہیں؟ pic.twitter.com/a2HzsAeVo3
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) September 26, 2022
انہوں نے کہا کہ جائزہ ضرور لیا جائے کہ حکومتی ارکان اپنے خلاف منی لانڈرنگ، رشوت ستانی سنگین کے مقدمات ختم کرواتی اور رہائش بمہ خاندان لندن اور دبئی میں برقراررکھتی ہی تو ملکی قومی سلامتی کوکوئی خطرہ تو نہیں؟۔
کامران خان کی ٹوئٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے صحافی اسد طور نے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے کامران کے خلاف بد ترین زبان کا استعمال کیا ۔
انہوں نے کہا کہ کامران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہا لکھا ہے کہ فوجی سربراہان یا فوج ایسے معاملات کا جائزہ لے سکتی ہے یا ان میں مداخلت کر سکتی ہے ؟۔
آئین میں کہاں فوجی سربراہان اور فوج کے دائرہ کار میں یہ لکھا ہے کہ وہ ایسے معاملات کا جائزہ لےسکتے ہیں یا مُداخلت کرسکتے ہیں؟ اگر اُنکا یہ آئینی مینڈیٹ ہے ہی نہیں جو کہ واقعی نہیں ہے تو کامران خان پر اُسکے والدین پر اور اُسکی اولاد پر لعنت اور آج تک جو کمایا وہ حرام کمانے پر لعنت https://t.co/C6W0k3lzDe
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) September 26, 2022
اسد طور نے کہا کہ جذبات میں آکر اخلاقیات سے گری گفتگو کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے کامران خان اور انکے اہلخانہ کو لعنت ملامت کی اور ان کی کمائی کو بھی حرام قرار دیا ۔
سوشل میڈیا صارف ایڈوکیٹ شان علی قمبرانی نے اسد طور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتنا جذباتی نہ بنو کامران خان غلط ہوسکتا ہے اور ہے لیکن اسکی خاندان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ؟۔
اتنا جذباتی نہ بنو کامران خان غلط ہو سکتا ہے اور ہے لیکن اسکی خاندان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ؟
— Shan Ali Qambrani Adv (@ShanAli23779573) September 26, 2022
ایاز شاہ نے ایک صارف نے کہا کہ اسد بھائی، اختلاف کریں اور غلط کو غلط بھی کہیں مگر کسی کیلئے اتنے سخت الفاظ سے گریز کریں۔ آپ کے جذبات کی قدر مگر ایسا لہجہ تکبر کا احساس دلاتا ہے ۔
اسد بھائی!!! اختلاف کریں اور غلط کو غلط بھی کہیں لیکن کسی کے لئے بھی اتنے سخت الفاظ سے گُریز کریں… آپ کے جذبات کی قدر ہے لیکن ایسا لہجہ تکبر کا احساس دلاتا ہے… 🙏🏻
— Ayaz Shah (@jajian) September 26, 2022
سیدی الباشا نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ جس کی غلطی ہو وہ ضرور لعنت ملامت کا حقدار ہے مگر اس کے والدین کا کیا قصور ؟ ۔ اتنے جذباتی نہ ہو جایا کرو کہ پورے خاندان پر ہی لعنت بھیج دو ۔
جس نے غلطی کی ہے گالی اور لعنت کا وہ حقدار ہے پر اس کے ماں باپ یا اولاد کا کیا قصور؟ اتنے جذباتی مت ہوجایا کرو کہ پورے پورے خاندان پر لعنت بھیجنا شروع کردیتے ہوhttps://t.co/9GVEadXETp
— سیدی الباشا ® (@BapuGunda) September 26, 2022









