اسلامی نظریاتی کونسل نے ٹرانس جینڈر بل 2018 کو غیر اسلامی قرار دے دیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق  نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کی جس پر سی آئی آئی نے بل کی کچھ شقوں کو غیرشرعی قرار دیتے ہوئے اس میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے، سی آئی آئی نے قانونی ماہرین اور مذہبی اسکالرز پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے

اسلامی نظریاتی کونسل نے ٹرانس جینڈر بل  2018 کی کچھ شقوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) نے خواجہ سراؤں  کے حقوق کے تحفظ کے بل 2018 کو غیر اسلامی قرار دیا اور کہا کہ یہ شریعت کے مطابق نہیں  ہے اس میں ترمیم کی جائے ۔

یہ بھی پڑھیے

خواجہ سرا یا ٹرانس جینڈر کے قانون کی متنازع شقوں کی اصلاح ہونی چاہیے، قبلہ ایاز

اسلامی نظریاتی کونسل کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے بہت سے حصے اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں اور اس سے  ملک میں سماجی مسائل  بڑھ  سکتے ہیں۔

سی آئی آئی نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائے اور اس کمیٹی میں قانونی ماہرین اور مذہبی اسکالرز کو شامل کرنے پر غور کیا جائے۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی  کمیٹی نے گزشتہ ہفتے ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ میں ترامیم کا مسودہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا تھا۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے پیش کردہ ترامیم کا مسودہ سینیٹ کے انسانی حقوق کے ادارے نے اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کو بھجوا دیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ترامیم کے حوالے سے سی آئی آئی سے رائے طلب کی گئی تھی کیونکہ خواجہ سراؤں کے بل کی کچھ شقوں کو وراثت کے اسلامی اصولوں سے متصادم قرار دیا گیا ۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے نیب ترمیمی قانون 2022 کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب قانون سے متعلق  کونسل  کی  مزید سفارشات کو بھی شامل  کرنے کی درخواست کی ہے ۔

واضح رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل  پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہےجو حکومت اور پارلیمنٹ کو اسلامی مسائل پر قانونی مشورہ دینے کا ذمہ دار ہے۔

متعلقہ تحاریر