کیا مریم نواز نااہلی کے خاتمے  پرانتخابی میدان میں عمران خان کا مقابلہ کرینگی؟

کیا مریم نواز عدالتی محاذ پر ملنے والی بڑی کامیابی کو سیاسی محاذ پر استعمال کریں گی؟ مریم نواز کے لیے انتخابی سیاست میں اپنی اور اپنی جماعت کی بالادستی ثابت کرنے کا یہ صحیح وقت ہے، تجزیہ کار

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایون فیلڈ کرپشن ریفرنس میں سزا کے چار سال بعد بری کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد مریم نواز انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی بھی ختم ہوگئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مریم نواز عدالتی محاذ پر ملنے والی بڑی کامیابی کو سیاسی محاذ پر استعمال کریں گی؟

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف سزا دلانےمیں ملوث کرداروں کے احتساب کاسوال گول کرگئے

عمران خان کی نازیبا وڈیو مریم نواز نے رکوائی، حامد میر کے دعوے نے سوالات کھڑے کردیے

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ  نے جولائی 2018 کےاحتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی جس کے دوران عدالت نے فریقین کے دلائل سنے۔

جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کی رائے کو ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کوئی حقیقت پیش نہیں کی، اس نے صرف معلومات اکٹھی کیں۔

ایک مختصر حکم میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہاکہ بعد میں درج کی جانے والی وجوہات کے لیے فوری اپیل کی اجازت ہے اور 6 جولائی 2018 کے فیصلے کو ایک طرف رکھا گیا ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ مریم اور کیپٹن صفدر کی سزاؤں کو ایک طرف رکھا گیا ہے اور انہیں ریفرنس میں الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔مریم کی بریت نے انہیں الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دے دیا تاہم انہوں نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے صحافیوں کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

عدالت  کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران مریم نواز سے سوال کیا گیا کہ نااہلی کے خاتمے پر کیا وہ الیکشن  میں حصہ لیں گی ؟ تو مریم نواز نے کہا کہ آپ جلد مجھے پارلیمنٹ میں دیکھیں لیکن میں کب اور کہاں سے الیکشن لڑوں گی اس کا فیصلہ اللہ کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف، وزیراعظم شہباز شریف اور میر ی پارٹی کرے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپشن ریفرنس میں بریت کے بعد مریم نواز کے پاس سیاسی کم بیک کرنے کا نادر موقع  پنجاب کے ضمنی الیکشن ہیں،اگر مریم نواز خود کو مقبول سمجھتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ حکومت کی موجودہ کارکردگی کے باوجود پنجاب کے عوام انہیں ووٹ دیں گے تو انہیں فوری طور پر ضمنی الیکشن میں عمران خان کے مقابلے میں میدان میں اترنا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم کے لیے انتخابی سیاست میں اپنی اور اپنی سیاسی جماعت کی بالادستی ثابت کرنے کا یہ صحیح وقت ہے ۔

متعلقہ تحاریر