عمران خان کا رواں ماہ لانگ مارچ کا اشارہ، معاملات طے نہ ہونے پر انتشار بڑھے گا ؟
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے رواں ماہ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اشارہ دے دیا، طاقت ور حلقوں نے صدر مملکت عارف علوی کو ٹاسک دیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر لایا جائے جبکہ پی ٹی آئی چیف اس سے انکاری ہیں، کیا ملکی سیاست میں انتشار بڑھے گا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے رواں ماہ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اشارہ دے دیا۔ سابق وزیراعظم نے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت بھی جاری کیں ہیں ۔
پی ٹی آئی چیف عمران خان نے پاٹی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران حکومت کے خلاف رواں ہفتے کے تیسرے ہفتے میں لانگ مارچ کا اشارہ دیا ۔انہوں نے پارٹی عہدیداران اور کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت دیں۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کو ریلیف دے کر عدلیہ نے بہت بڑی غلطی کی، مریم نواز
عمران خان نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے فوراً بعد کسی بھی وقت اسلام آباد مارچ کی کال دونگا۔ پارٹی عہدیداران اور رہنما مکمل اور بھر پور تیاری کریں۔ کارکنان مارچ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شرکت کی دعوت دیں ۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق صدرمملکت عارف علوی کو طاقت ورحلقوں کی جانب سے پیغام دیا گیا تھا کہ وہ اپنی پارٹی کے سربراہ عمران خان کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر سیاسی معاملات حل کریں مگر عمران خان اس سے انکاری ہیں ۔
سابق وزیراعظم نےاتحادی حکومت کو چورقرار دیتے ہوئے ان سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی تھی تاہم عمران خان نے گزشتہ دنوں طاقت ور حلقے کے ایک انتہائی بااثر شخصیت سے اہم ملاقات کی ۔
عمران خان نے انتہائی بااثرشخصیت سے ملاقات کی بات تو کی مگر انہوں نے نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ میں بولتا نہیں مگر سچ بتا نہیں سکتا کہ کس سے ملاقات ہوئی ۔
سیاسی امور پر نظر رکھنے والوں تجزیہ کاروں نے کہا کہ عمران خان کے رواں ماہ لانگ مارچ کے اشارے نے صدر مملکت کو بھی ایک امتحان میں ڈال دیا ہے اور ان کے پاس وقت کم ہے جبکہ وزیراعظم الیکشن کا اعلان نہیں کریں گے ۔









