سابق صدر آصف علی زرداری شدید علیل، ڈاکٹرز کا بیرون ملک علاج کا مشورہ

واضح رہے کہ آصف علی زرداری کو گزشتہ ہفتے طبیعت خراب ہونے پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

سابق صدر آصف علی زرداری شدید علیل ہو گئے ، علاج کے لیے بیرون ملک منتقلی پر غور شروع کردیا گیا۔ کوچیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کو چند روز قبل اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

طبی معائنے کے لیے تین رکنی ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم خصوصی طیارے سے کراچی پہنچی۔ علاج اور ٹیسٹ کے لیے بیرون ملک جانے کا مشورہ دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے

سیکورٹی فورسز کی ٹانک میں کارروائی ، 4 دہشتگرد ہلاک

عمران خان کا رواں ماہ لانگ مارچ کا اشارہ، معاملات طے نہ ہونے پر انتشار بڑھے گا ؟

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ سابق صدر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور ماہرین صحت کی ٹیم ان کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور ان کے طبی ٹیسٹ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طبیعت بگڑنے پر منگل کے روز کراچی کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ تقریباً ایک ماہ سے طبیعت خراب تھی، آخرکار انہیں منگل کے روز اسپتال داخل کرادیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کی سربراہی میں طبی ماہرین کا ایک اعلیٰ اختیاراتی بورڈ سابق صدر کی صحت کا معائنہ اور نگرانی کر رہا ہے۔

آصف علی زرداری کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ زرداری کو پھیپھڑوں کے آپریشن سے گزرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ان کے مختلف طبی ٹیسٹ کیے جانے کی امید ہے۔

جولائی کے آخر میں آصف علی زرداری نوول کورونا وائرس (COVID-19) کا شکار ہوئے تھی ، جب وہ اپنی بیٹی بختاور سے دبئی میں اپنے پوتے کی پہلی سالگرہ منانے گئے تھے۔

گزشتہ سال زرداری کو ڈاکٹروں کے مشورے پر کراچی کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ سابق صدر ‘عدالت میں پیشی اور بجٹ سیشن کے لیے سفر کی مشقت اور تھکن کی وجہ سے بیمار ہو گئے تھے’۔

اکتوبر 2020 میں سابق صدر کو کلفٹن کے ایک نجی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کیا گیا تھا کیونکہ وہ مبینہ طور پر سینے کے انفیکشن میں مبتلا تھے اور ان کے بلڈ شوگر کی سطح خطرناک حد تک گر گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر