قطر ایئرپورٹ پر شہری کے سوال پر مریم نواز کی خاموشی نے کئی سوالات اٹھا دیئے
قطر ایئرپورٹ پر پاکستانی شہری کی جانب سے سرجری کے لیے لندن جانے کی وجہ پوچھے جانے پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر خاموش رہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی نائب صدر مریم نواز اس وقت سخت ہزیمت اٹھانا پر جب قطر ایئرپورٹ پر ایک پاکستانی شہری نے اس سوال کیا کہ آپ کو سرجری کے لیے لندن جانے کی ضرورت کیوں پڑی ، آپ کی حکومت 30 سال میں ایک بھی ایسا اسپتال نہیں بنا پائی جس میں آپ کا علاج ہوسکے۔؟
ویڈیو میں مریم نواز کو قطر کے ایئرپورٹ پر لوگوں سے تصویریں کھینچتے اور بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ، تاہم اسی دوران ایک غیر ملکی پاکستانی شہری بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں اور ان کے سامنے سوال رکھ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی میں نجی اسکول کے استاد کی 14 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار
سیلاب زدہ پاکستان میں حکومت کو عمران خان کے لانگ مارچ اور سائفر کی فکر ستانے لگی
پاکستانی شہری کا کہنا تھا کہ "میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ کی پارٹی 30 سال سے ملک پر حکومت کر رہی ہے لیکن کیا آپ کی حکومت نے کوئی ایسا اسپتال نہیں بنایا جہاں سے آپ سرجری کروا سکتیں۔؟ شہری کا سوال سن کر مریم نواز خاموشی سے لفٹ میں سوار ہوکر چلے جاتی ہیں۔
نیوز 360 کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر گئی ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ پاکستانی شہری مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ "وہ اس کے سوال کا جواب دیے بغیر وہاں سے چلی گئی ہیں جبکہ کچھ لمحے پہلے وہ وہاں موجود لوگوں کے ساتھ تصویریں بنوارہی تھیں۔”
30 سالوں سے آپ کی حکومت ہے ابھی تک کوئی ایسا اسپتال نہیں بنا پاکستان میں جہاں آپ کی سرجری ہوسکے#News360 #MaryamNawaz @pmln_org pic.twitter.com/cXOeEDlCCI
— News 360 (@officialnews360) October 5, 2022
مذکورہ شخص کا کہنا تھا کہ "رنجیت سنگھ کے بعد انہوں نے سب سے زیادہ ہم پر حکومت کی ہے ، اور اپنی سرجری کرانے کے لیے لندن جارہی ہیں۔”
واضح رہے کہ گذشتہ روز مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اپنے والد اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات سربراہ میاں نواز شریف سے ملنے کے لیے لندن روانہ ہوئی تھیں ، جو 2019 میں طبی بنیادوں پر پاکستان سے برطانیہ چلے گئے تھے اور تب سے وہ وہیں مقیم ہیں۔
لندن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا تھا کہ انہیں لندن میں ایک سرجری کے عمل سے بھی گزرنا ہے۔
واضح رہے کہ منگل کے روز مریم نواز نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کے ڈپٹی رجسٹرار (جوڈیشل) کے دفتر سے اپنا پاسپورٹ وصول کیا تھا۔ مریم نواز شریف نے 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اپنا پاسپورٹ اور 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرائے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 29 ستمبر 2022 کو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس کیس میں باعزت بری کردیا تھا ، جس کے بعد اب ان کے لیے آئندہ الیکشن لڑنے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔
مریم کا نام العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں پہلے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا گیا تھا جبکہ چوہدری شوگر ملز کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ان کا نام 2020 میں دوبارہ نو فلائی لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ مریم نواز کا نام رواں سال اپریل میں ای سی ایل لسٹ سے نکالا گیا تھا جب حکومت نے شہریوں کے ملک سے باہر جانے والے قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائی تھیں۔









