موڈیز نے پاکستان کے بیرونی قرض کی شرح بندی مزید گرادی
پاکستان کے بیرونی قرض کی ریٹنگ بی 3 سےگراکر سی اے اے1 کردی گئی، وزارت خزانہ نے موڈیز کا یکطرفہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا، ڈالر کی قدر میں کمی کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر کمی کا سلسلہ جاری، معاشی ماہرین کا صورتحال پر تشویش کا اظہار

معیشتوں کی درجہ بندی کرنے والے عالمی ادارے موڈیز نے پاکستان کے لمبے عرصے کے بیرونی قرض کی ریٹنگ گرادی۔موڈیز نے پاکستان کے بیرونی قرض کی ریٹنگ بی 3 سےگراکر سی اے اے1 کردی ہے۔
موڈیز کا کہنا ہےکہ سیلاب سے پیدا شدہ لیکوڈٹی، بیرونی خدشات اور پائیدار قرض خدشات کے سبب ریٹنگ گرائی گئی ہے۔موڈیز کے مطابق مناسب لاگت پر مارکیٹ فنانسنگ کی عدم دستیابی کے سبب پاکستان کا بیرونی قرض ادائیگی کے لیےکثیر جہتی اور آفیشل قرض دینے والوں پر انحصار رہےگا۔
یہ بھی پڑھیے
فچ کے بعد عالمی بینک نے پاکستانی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی
مذاکرات کامیاب: حکومت نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو بڑا ریلیف دے دیا
واضح رہے کہ موڈیز کی ریٹنگ 7سال کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل بھی اسحاق ڈار ہی کے دور میں پاکستان کی ریٹنگ اس درجے تک گری تھی۔خطرناک امر یہ ہے کہ موڈیز آئندہ 6 ماہ بھی پاکستانی معیشت کو بہتر ہوتا نہیں دیکھ رہا۔
دوسری جانب وزارت خزانہ نے موڈیز کی ریٹنگ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق موڈیز کا ریٹنگ ایکشن یکطرفہ طور پر وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پیشگی مشاورت اور ملاقاتوں کے بغیر کیا گیا ہے۔
موڈیز کی جانب سے ریٹنگ ایکشن کی اطلاع کے بعد وزارت خزانہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موڈیز کی ٹیم کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں، جس میں ڈیٹا اور معلومات کا اشتراک کیا گیا جس میں واضح طور پر موڈیز کی ریٹنگ ایکشن سے متصادم تصویر دکھائی دیتی ہے۔
اقتصادی اور مالیاتی حالات کا باقاعدہ جائزہ لینے کے بعدوزارت خزانہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں حکومتی پالیسیوں نے مالیاتی استحکام میں مدد کی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت پاکستان کے پاس اپنی بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کافی لیکویڈیٹی اور فنانسنگ کے انتظامات ہیں۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جس کا تسلسل ملک کی مالیاتی نظم و ضبط، قرضوں کی پائیداری اور اپنی تمام ملکی اور بیرونی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی صلاحیت کی تصدیق اور اعتماد پر مبنی ہے۔پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے پانے والے معاہدوں پر قائم ہے۔
معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے باوجود موڈیز کی ریٹنگ بری طرح سے گرنے کومعیشت کیلیے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔دوسری جانب ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ ذخائر 17.31 کروڑ ڈالرکم ہوئے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر 30 ستمبر کو 13.58 ارب ڈالر رہے، اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر 10.61 کروڑ ڈالرکم ہوکر 7.89 ارب ڈالر رہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے ذخائر 6.7 کروڑ ڈالرکمی سے 5.68 ارب ڈالر رہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے ڈالر کی قدر نیچے لانے کے باوجودزرمبادلہ کے ذخائر کا نہ سنبھلنا اور آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے باوجود موڈیز کی جانب سے پاکستانی معیشت ریٹنگ گرانا پاکستانی معیشت کے لیے تباہ کن صورتحال ہے۔اسحٰق ڈار ملکی معیشت کو کیسے بحال کریں گے؟









