مسلمان خواتین پر مظالم سے متعلق پریانکا چوپڑا کو دہرا معیار اپنانے پر تنقید کا سامنا

بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو ایران میں جاری حجاب مخالف تحریک کی حمایت کرنے  تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، صحافی ابھیشیک نے کہاکہ  اداکارہ کو بھارت کے علاوہ پوری دنیا کی فکر رہتی  ہے جبکہ آندرے بورجیس نے کہا کہ  پریانکا چوپڑا کی بھارت میں مسلمانوں کی خواتین کے ساتھ ہونے والی ایسی ہی حالت زار پر بات نہ کرنامنا فقت ہے

بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو ایران میں ڈریس کوڈ سے متعلق جاری احتجاج کے حوالے سے بیان دینا مہنگا پڑگیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ پریانکا بھارتیوں کے لیے علاوہ سب کی حمایت میں سامنے آتی ہیں۔

بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایران میں جاری احتجاج پر بیان دیتے ہوئے ایرانی خواتین کی ڈریس کوڈ مخالف تحریک کی حمایت کی ۔

یہ بھی پڑھیے

بلقیس بانو ریپ، قتل کیس کے11 سزا یافتہ مجرموں کو حکومتی معافی مل گئی

 بھارتی اداکارہ نے ایران میں حجاب کے خلاف جاری احتجاج  کی حمایت کی اور ایرانی خواتین کو اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دی تھی ۔

صحافی ابھیشیک بخشی نے پریانکا پر کڑی تنقید کی ۔انہوں نے کہا کہ اداکارہ کو بھارتیوں کیلئے علاوہ پوری دنیا کی فکر ہے۔ سب کی حمایت میں سامنے آتی ہیں سوائے بھارتیوں کے ۔

مشہور بھارتی صحافی رعنا ایوب نے اداکارہ کے بیان پر کہا کہ ایرانی خواتین کے لیے پریانکا چوپڑا کی تشویش کو بے حد سراہا گیا ہے لیکن بلقیس بانو اور مسلمانوں پر ریاستی طور پر کیے جانے والے ظلم و ستم پر ان کی خاموشی قابل غور ہے ۔

رعنا ایوب نے کہا کہ بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کی اپنی ہم وطن مسلمانوں اور خاص طور پر اپنے آبائی ملک ہندوستان میں پسماندہ خواتین کے بارے میں ان کی خاموشی غور طلب ہے ۔

آندرے بورجیس نے کہا کہ پریانکا چوپڑا کی ایرانی خواتین کے حق میں بات کرنے کی تعریف کرنا اور اسکا اعتراف کرنا بالکل ٹھیک ہے لیکن بھارت میں  مسلمانوں کی خواتین کے ساتھ ہونے والی ایسی ہی حالت زار پر بات نہ کرنے کی منافقت کو بھی پکاریں۔

متعلقہ تحاریر