نوازشریف کی دوران قید ملاقاتیں کروانے والے جیل افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز

پنجاب کے وزیرداخلہ لیفٹینٹ کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے کہا کہ لیگی قائد نوازشریف نے ایک سال قید کے دوران جیل میں 2200 افراد سے ملاقاتیں کیں جبکہ غریب عوام کو ایسی سہولیات فرہم نہیں کی جاتی اس لیے اس وقت کے جیل حکام کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی

پنجاب کے وزیرداخلہ لیفٹینٹ کرنل ریٹائرڈ  ہاشم ڈوگرنے سابق وزیراعظم نوازشریف کی جیل میں2200 سے زائد افراد سے ملاقاتیں کروانے والے جیل افسران کے خلاف انکوائری کروانے کا اعلان  کردیا ہے ۔

وزیرداخلہ پنجاب  لیفٹینٹ کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگرنے سابق وزیراعظم نوازشریف کی دوران قید جیل میں 2 ہزار 200 ملاقاتیں کروانے والے جیل حکام کے خلاف تحقیقات کا اعلان کردیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف سزا دلانےمیں ملوث کرداروں کے احتساب کاسوال گول کرگئے

پنجاب اسمبلی لاہورکے باہر میڈیا نمائندوں سے  گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ پنجاب لیفٹینٹ کرنل ریٹائرڈ  ہاشم ڈوگر نے کہا کہ نوازشریف نے قید کے دوران 2200 سے زائد لوگوں سے ملاقات کی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف نے دوران قید ایک سال کے دوران 2 ہزارسے زائد افراد سے ملاقاتیں کیں۔ ہم اس وقت کے جیل افسر کے خلاف انکوائری کروائیں گے۔

وزیر داخلہ پنجاب نے سول پوچھا کہ کیا کوئی غریب آدمی جیل میں اتنی ملاقاتیں کرسکتا ہے؟۔ لیفٹینٹ کرنل ریٹائرڈ  ہاشم ڈوگر نے کہا کہ نوازشریف کو جیل میں تمام سہولیات میسر تھیں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے لیگی قائد نوازشریف کوایون فیلڈ کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھیں جبکہ ان پر ایک ارب 10 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 29 اکتوبر2019 کو ایک سال قید کے بعد نوازشریف کو طبی بنیاد پر بیرون ملک علاج لیے20 لالھ روپے کے مچلکے پر ضمانت دی تھی ۔

متعلقہ تحاریر