پاکستان میں مہنگائی،بیروزگاری بڑھے گی،شرح نمو 3.5فیصد رہے گی، آئی ایم ایف

پاکستان میں رواں سال مہنگائی کی شرح 19.9فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5فیصد اور بیروزگاری کی شرح 6.4فیصد رہنے کا امکان ہے، ورلڈ اکنامک آؤٹ لک

آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، بے روزگاری اور مہنگائی بڑھے گی اور معاشی ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی ہوسکتی ہے۔

  آئی ایم ایف نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ جاری کر دی  ۔ اس رپورٹ کے مطابق رواں مالی پاکستان کی معیشت دباؤ میں رہے گی ، پاکستان میں بیروزگاری اور مہنگائی بڑھے گی، شرح نمو کا ہدف حاصل نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے نیشنل بینک سمیت پانچ بینکس کی ریٹنگ کم کردی

3مالیاتی ادارے سیلاب کے پیش نظر پاکستان کو 4 ارب ڈالر دیں گے

 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ سال کی نسبت بڑھے گی، آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6.4 فیصد ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6.2 فیصد تھی۔

 آئی ایم ایف کی  رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال معاشی نمو 3.5 فیصد رہنے کی توقع  ہے۔ تاہم ماہرین کاکہنا کہ آئی ایم ایف نے شرح نمو کے اس تخمینے میں بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کو مدنظر نہیں رکھا ہے، سیلاب  کی تباہ کاریوں کے پیش نظر شرح نمو 3.5 فیصدسے بھی ایک فیصد تک کم ہوسکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق  پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 19.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5 فیصد تک رہ سکتا ہے۔  ماہرین کے مطابق اس رپورٹ میں واضح ہے کہ پاکستان کے لیے خطرہ بدستور موجود ہے۔

متعلقہ تحاریر