رائڈ ہیلپنگ ایپ اوبر نے کراچی سمیت 5 بڑے شہروں میں سروس بند کردی

پاکستان میں سفری سہولت مہیا کرنے والی کمپنی”اوبر“ نے کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے 5بڑے شہروں میں اپنی سروسز بند کرنے کا اعلان کردیا۔
اوبر ٹیکنالوجیز انکارپوریشن نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ کراچی، ملتان، فیصل آباد، پشاور اور اسلام آباد میں اپنی رائیڈ ہیلنگ ایپ کو مزید نہیں چلائے گی۔
یہ بھی پڑھیے
ایئر لفٹ نے 11ماہ میں 8.5 کروڑ ڈالر کیسے اڑائے؟کمپنی کی تباہی کی اندرونی داستان
کریم کے شریک بانی کا ایئرلفٹ کے شریک بانی کو خراج تحسین
کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ” اوبربدستور پاکستان کے لیے پرعزم ہے، ہم اپنے ذیلی برانڈ کریم کے ساتھ ان 5 شہروں کی خدمت جاری رکھیں گے اور لاہور میں اوبر ایپ کام کرتی رہے گی “۔
کمپنی ان مشکل وقتوں میں کمانے والوں کی مدد کیلیے لاہور میں نئی مصنوعات کے آغاز کے ساتھ خدمات پیش کرتی رہے گی۔اوبر نے 2019 میں 3.1 ارب ڈالر میں دبئی میں واقع اپنی حریف کمپنی کریم کوخریدا تھا۔ کریم کی خریداری کے وقت کمپنی نے دونوں ایپس کو ایک ساتھ چلانے کا عزم ظاہر کیا تھا تاہم اس شعبے کے زیادہ تر تجزیہ کاروں نے اس دعوے پر شکوک کا اظہار کیا تھا ۔
اس صنعت سے وابستہ ایک اندرونی ذریعے نے انگریزی روزنامہ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ”انہیں بالآخر دو ایپس میں سے ایک کو بند کرنا پڑے گا، یہ فیصلہ ناگزیر تھا“۔
ایک ذریعے نے نام ظاہرہ نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ”کراچی اور راولپنڈی/اسلام آباد رائیڈ شیئرنگ کے کاروبار کے لحاظ سے دو بڑے شہر ہیں۔اوبر نے اپنے لاہور آپریشنز کو برقرار رکھا ہے کیونکہ وہ وہاں ایک اہم پوزیشن پر ہے، یہ ان کے لیے ایک منافع بخش مارکیٹ ہے‘‘۔
کریم نے رائیڈ ہیلنگ کے کاروبار میں اپنے مارکیٹ شیئر کے بارے میں ڈان کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ موبلٹی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں ایک کاروباری شخص جس کا کریم سے کوئی براہ راست مقابلہ نہیں ہے، نے بتایا کہ کمپنی کراچی اور راولپنڈی/اسلام آباد میں”ابھی بہترین پوزیشن میں نہیں ہے“۔
ذرائع آمدورفت کے کے شعبے سے وابستہ متعدد ذرائع کے مطابق” ان-ڈرائیور“ ایپ فی الحال فور وہیلر سیگمنٹ میں مارکیٹ لیڈر ہے۔ سان فرانسسکو میں قائم کمپنی نے 2021 کی پہلی ششماہی میں پاکستان میں کام شروع کیا۔ اس نے بغیر کسی کمیشن کے نقد پر مبنی ادائیگیوں کا وعدہ کرکے ڈرائیورز کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے“ ۔
ملک کے ٹیک ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو ٹریک کرنے والی ویب سائٹ ڈیٹا دربار کے تجزیے کے مطابق اِن ڈرائیور ڈھانچہ جاتی عدم موجودگی کے باوجود پاکستان میں رائیڈ ہیلنگ مارکیٹ کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ویب سائٹ نے بتایا کہ ان ڈرائیور ایپ کے صارفین کی تعداد کریم پاکستان کی ایپ کے صارفین سے تقریباً دوگنا ہے۔
اوبر اور کریم مسابقتی ایپس رہی ہیں، لاہور میں اوبر کوزیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ 2019 کے بعد اوبر اور کریم نے مشترکہ طور پرتشہیری مہمات میں تقریباً نصف ارب ڈالر خرچ کیے ہیں ۔ ذرائع نے کہا کہ” انہوں نے یقینی طور پر مارکیٹ میں آگاہی پیدا کی ہے، لیکن وہ تشہیر پر اس قدر سرمایہ کاری کے باوجود خاطر خواہ منافع نہیں کما سکے“۔
ایک مالیاتی تجزیہ کار نے کہا کہ اوبر کے لاہور کی مارکیٹ میں رہنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ لسٹڈ کمپنی کے طور پر اوبر کا پاکستان سے مکمل انخلا دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں جگہ بناتا ۔
انہوں نے کہاکہ”میرے خیال میں اس فیصلے کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ خبریں زیادہ شور نہ مچائیں“۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام موبلٹی پلیئرز کے لیے پاکستان کی تین بڑی مارکیٹوں میں لاہور سب سے چھوٹی ہے۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان موبلٹی اسٹارٹ اپ کو چلانے کے لیے ایک بہت ہی مشکل مارکیٹ ہے۔لوگوں کی استطاعت ایک بڑا مسئلہ ہے، جیسے ہی آپ کرایہ بڑھاتے ہیں مارکیٹ گر جاتی ہے ‘‘ ۔









