ہیکرز نے رانا ثناء اللہ کے دعوے کا 48 گھنٹوں میں پول کھول دیا
وفاقی وزیر داخلہ نے دو روز قبل نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے میں دعویٰ کیا تھا کہ آڈیو لیکس میں ملوث افراد کی شناخت ہو گئی ہے اور یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا تھا جب چیئرمین تحریک انصاف نے آڈیو لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگئی ہے ، ہیکرز نے وفاقی وزیر داخلہ کے دعوے کا پول 48 گھنٹوں کے اندر اندر کھول کررکھ دیا ، کیونکہ رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بیٹھ کرکہا تھا کہ آڈیو لیکس کا معاملہ ختم ہو گیا ہے کیونکہ اس میں ملوث افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہیکرز کی جانب سے جاری ہونے والی آڈیو نے ایک مرتبہ پر پی ایم ہاؤس کی سیکورٹی پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
ہیکرز کی جانب سے نئی جاری کی گئی مبینہ آڈیو میں وزیراعظم شہباز شریف کو کسی نامعلوم شخص سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔
مبینہ آڈیو لیک کا متن
وزیراعظم شہبازشریف کی ہیکر نے ایک اور مبینہ آڈیو جاری کردی۔۔۔
شہباز شریف مبینہ طور پر پیپلزپارٹی کی جانب سے معاون خصوصی لگانے پر بات کررہے ہیں۔۔۔!!!#Audioleak pic.twitter.com/qe3Ziplkx3— Mughees Ali (@mugheesali81) October 12, 2022
نامعلوم شخص: پیپلز پارٹی والے معاون خصوصی کے عہدوں میں شیئر مانگ رہے ہیں۔
شہباز شریف: نہیں انہوں نے بات کی تھی مجھ سے بلاول نے۔
نامعلوم شخص: یہ پھر ہم نے دیکھنا ہے کہ ظفر محمود اور جہانزیب صاحب کو لگانا ہے۔
شہباز شریف: یہ آج آپ کو ایک فائنل نمبر بتا دوں گا۔
شہباز شریف: وہ ڈاکٹر کو شیئر کرلیں گے ، پیپلز پارٹی اور باقی کو بھی۔
نامعلوم شخص: وہ جے یو آئی بھی مانگے گی اور ایم کیو ایم بھی۔ ایم کیو ایم کے ایک بندے کا نام ملک احمد علی بتا رہے تھے۔ کہ اس کا ہمارا اور ان کے ساتھ ڈیل کرانے میں بڑا کلیدی کردار تھا۔ وہ میں آپ کو اس کی سی وی ، سر وہ کراچی کا بندہ ہے۔
رانا ثناء اللہ کی نجی ٹی وی سے گفتگو
واضح رہے کہ دو روز قبل جیو نیوز کے پروگرام کے میں اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی آڈیو لیکس میں ملوث افراد کی شناخت کرلی گئی ہے تاہم کسی دشمن ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی ملوث نہیں ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے آڈیو لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔
تبصرہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ شہباز شریف صاحب آڈیو لیک میں کیا کہہ رہے ہیں، اور یہ بھی کہ یہ آڈیو جوڑ کر بنائی گئی ہے یا نہیں جوڑ کر بنائی گئی ہے ، بات یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ صاحب ابھی دو دن پہلے کہہ رہے تھے کہ آڈیو لیکس کے معاملے میں جو لوگ ملوث تھے ان کی شناخت ہو چکی.
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کی شناخت ہو گئی ہے تو ظاہر بات ہے کہ آپ نے انہیں ٹھکانے بھی لگایا ہو گا ، تو پھر ان افراد سے بھی پوچھ لیتے کہ ہیکرز کون ہیں ، کیونکہ آپ کے اپنے بیان کے مطابق آڈیولیکس کے معاملے پر کوئی باہر ایجنسی ملوث نہیں ہے ، لوکل کام ہے ، لوکل ہیکرز ہیں جو بیٹھ کر آڈیو لیکس کررہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ نے پی ایم ہاؤس کے ان افراد کی شناخت کر لی ہے جو اس آڈیو لیکس کے معاملے میں ملوث تھے تو پھر آپ ان سے کم از کم اگلاوا لیتے کہ وہ کون سے ہیکرز ہیں جو اس کارروائی میں ملوث تھے ، کہاں سے وہ آپریٹ کررہا ہے ، اس تک پہنچتے ، ان ساری آڈیو لیکس کو رکواتے جو وہ لیک کررہا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ رانا ثناء اللہ نے ملک کی سیکورٹی کو مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے ۔









