وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی جیو نیوز پر عمران خان کو گالی، پیمرا خاموش تماشائی بن گیا

پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر کے سابق وزیراعظم کے تخت بھائی میں کیے گئے خطاب سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ ہتھے سے اکھڑ گئے، عمران خان کو گالی دے ڈالی، میزبان نے چہرے پر ناگوار تاثرات لانے کےعلاوہ کچھ نہیں کیا، پیمرا تاحال خاموش، سوشل میڈیا کی شدید تنقید

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے جیو نیوز کے مشہور پروگرام کیپیٹل ٹاک میں سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو گالی دے ڈالی۔

پروگرام کے میزبان حامد میر وزیرداخلہ کی ہرزہ سرائی پر صرف چہرے پر ناگوار تاثرات ہی لاسکے، پروگرام کے  پروڈیوسر بروقت مداخلت کرکے وزیرداخلہ کی گالی سنسر کرنے میں ناکام ر ہے۔ٹوئٹر صارفین اور صحافیوں نے  پیمرا سے چینل انتظامیہ اور میزبان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

اے آر وائے کے بعد بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ بھی پیمرا کے نشانے پر آگیا

عمران خان کی براہ راست تقاریر پر پابندی سے متعلق پیمرا کا نوٹی فکیشن کالعدم

گزشتہ روز  جیوز نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے رانا ثنا اللہ کو بذریعہ لنک اپنے پروگرام میں مدعو کیا اور  سابق وزیراعظم عمران خان کے تخت بھائی میں کیے گئے خطاب میں استعمال کیے گئے سخت لہجے کا ذکر کرتے ہوئے انہیں عمران خان کے خطاب کا کچھ حصہ بھی دکھایا۔

حامد میر نے راناثنااللہ سے سوال کیا کہ این آر او کون دے رہا ہے اور عمران خان کس کو غدار کہہ رہے ہیں؟راناثنااللہ نے سوال کا جواب دینے کے بجائے اپناروایتی جارحانہ انداز اپنایا اور کہا یہ شخص  اپنے ہوش و حواس کھوبیٹھا ہے  اور اب اس کا وہی انجام ہوگا جو باؤلے کتے کا ہوتا ہے ، جو باؤلہ ہوجاتاہے۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی اس ہرزہ سرائی پر پروگرام کے میزبان حامد میر صرف چہرے پر ناگوار تاثرات ہی لاسکے، انہوں نے نہ تو رانا ثنااللہ کو ٹوکا اور نہ ہی ان کی ٹیم نے راناثنااللہ کی آواز کو سنسر کیا۔

جیو نیوز کے سابق اینکر طارق معین صدیقی نے پروگرام کا یہ کلپ شیئر کرتے ہوئے پیمرا کو مخاطب کرکے سوال کیا کہ کیا پیمرا میزبان،چینل اور اس زبان کا نوٹس لے گا؟ٹوئٹر صارفین نے نازیبا زبان استعمال کرنے پر راناثنا اللہ اور چینل کیخلاف کارروائی نہ کرنے پیمرا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

طارق معین صدیقی کے سوال پر ایک صارف نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھاکہ طارق بھائی کیا آپ کو معلوم نہیں کہ پیمرا صرف بول اور اے آر وائی کیخلاف نوٹس لیتا ہے؟

یاد رہے کہ گزشتہ  ہفتے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں فواد چوہدری نے پختونخوں سے متعلق بیہودہ مذاق کیا تھا جس پر پیمرا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موثر تاخیری نظام لاگو کرنے میں ناکامی پر چینل کی انتظامیہ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا اور 7 روز میں جواب طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ راناثنااللہ کی نازیبا گفتگو کو سنسر کرنے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ جیونیوز کا تکنیکی عملہ بھی موثر تاخیری نظام پر عملدرآمد نہیں کررہا ، دلچسپ امر یہ ہے کہ جیوز نے رات ایک بجے پروگرام نشرر مکرر کیا تو بھی رانا ثنااللہ کے اس قابل اعتراض جملے کو سنسر نہیںں کیا۔تاہم پیمرا نے ملک کے وزیرداخلہ کی جانب سے کئی گئی نازیبا گفتگو کا تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا ہے جو پیمرا کی جانب داری کا واضح ثبوت ہے۔

متعلقہ تحاریر