عمران خان کا کراچی جلسہ: ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی
چیئرمین تحریک انصاف کی کراچی میں بڑی ریلی نے بظاہر پی پی پی اور ایم کیو ایم-پی کے اتحاد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے کراچی جلسے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے رابطہ کمیٹی ، ایم پی ایز ، ایم این ایز اور دیگر رہنماوں کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان نے کراچی کو تحریک انصاف کا شہر قرار دے دیا
کامران ٹیسوری کے گورنر بنتے ہی ایم کیو ایم میں اختلافات کی دراڑیں نمایاں ہو گئیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ دو روز قبل متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے اور ملاقاتیں ہوئی تھی ، جس میں بلدیاتی قانون میں ترمیم پر بات چیت کی گئی تھی تاہم کل تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
ایم کیوایم نےپیپلزپارٹی کے ساتھ ہوئے معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کردیا
مزید جانیے :https://t.co/YsojfffZLs#mqm #GeoNews pic.twitter.com/F6NzXABVBD— Geo News Urdu (@geonews_urdu) October 14, 2022
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر ایم کیو ایم کی قیادت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ کی قیادت نے حکومت سے نکلنے سمیت کئی آپشن پر غور شروع کردیا ہے اور اس حوالے سے ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد کو اتوار کے روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف زیادہ وسیع ہو گئے ہیں ، کیونکہ گذشتہ دو روز کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے ڈھکے چھپے الفاظ میں ایم کیو ایم پر تنقید کی جارہی ہے جبکہ متحدہ کی جانب سے بھی پیپلز پارٹی پر معاہدوں پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے کراچی میں ایک جلسے نے شہر قائد کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بڑا دھماکہ ہونے جارہا ہے کہ کیونکہ بلاول بھٹو زرداری آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرنے جارہے جبکہ متحدہ کی قیادت نے بھی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کیا ردعمل دیتی ہے اس کا انحصار بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس پر ہے۔
تجزیہ کاروں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ اتوار کے روز کراچی کے دو حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں جبکہ 23 اکتوبر کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہیں مگر اس حوالے سے نہ تو پیپلز پارٹی نے کوئی کمپین چلائی اور نہ ہی ایم کیو ایم نے کوئی انتخابی مہم چلائی ، ایسا لگتا ہے دونوں پارٹیوں کو ضمنی انتخابات کے نتائج سے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ بڑی ہی مشکل پڑ گئی ہے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے لیے اس ساری صورتحال میں۔









