شاہ رخ جتوئی کی رہائی: اٹارنی جنرل اور جبران ناصر کا عدالت عظمیٰ سے شکوہ
اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ جبکہ جبران ناصر کا کہنا ہے فساد فی الارض کو روکنے کے لیے شاہ رخ جتوئی کو سزا دینا بنتی تھی۔
شاہ زیب قتل کیس ، سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے شاہ رخ جتوئی کی بریت کے خلاف اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب معروف وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو فساد فی الارض روکنے کے لیے شاہ رخ جتوئی کی سزا کو قائم رکھنا چاہیے تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے آفس آف دی اٹارنی جنرل نے خط کا ڈرافٹ تیار کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے نام لکھے گئے خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے فیصلے سے قبل اٹارنی جنرل سے مشاورت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیے
ارکان پارلیمنٹ کیلئے17 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدہ کرکے پچھتا رہے ہیں، وسیم اختر
اٹارنی جنرل کے آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ایسے معاملات کو پہلے ہی آئینی قرار دے چکی ہے اور آئینی معاملات میں اٹارنی جنرل سے مشاورت لازمی ہوتی ہے۔
جبران ناصر کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے خط میں لکھا ہے کہ ہم اس معاملے کو پہلے ہی دہشتگردی کا معاملہ قرار دے چکے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے خط میں مزید لکھا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قرار دیا جاچکا ہے ، تو پھر سپریم کورٹ دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں سابقہ عدالتوں فیصلوں سے ہٹ کر کیسے اس نتیجے پر پہنچ گئی۔

اٹارنی جنرل برائے پاکستان جناب اشتر اوصاف علی نے پہلے ہی یہ استدلال کیا تھا کہ ملزمان نے دہشت گردی کی سنگین واردات کی ہے۔
کراچی کی عدالت کی طرف سے مقدمے کی سماعت کے دوران شواہد پر باریک بینی سے غور کرنے کے بعد سزائیں سنائی گئیں تھیں۔
خط میں مزید لکھا ہے کہ "چاہے کچھ بھی ہو ، اس صورتحال میں عدالت عظمیٰ انسداد دہشت گردی کے جرائم سے متعلق اپنے سابقہ فیصلوں سے ہٹ کر کیسے کسی نتیجے پر پہنچ گئی ، اور وہ بھی اٹارنی جنرل کی مشاورت کے بغیر۔ فساد فی الارض کے تحت کیس کا مخصوص حالات کے تحت فیصلے کا جائزہ لینا ہوگا۔
مذکورہ بالا تمام وجوہات کی بنا پر آفس آف اٹارنی جنرل شاہ رخ جتوئی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرے گا۔
معروف وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا ہے کہ اگر شاہ زیب قتل کیس میں معاملہ دیت اور قصاص کی طرف جارہا تھا تب بھی سپریم کورٹ کو فساد فی الارض کو روکنے کے لیے شاہ رخ جتوئی کو سزا دینی چاہیے تھی۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے شاہ رخ جتوئی کی بریت پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کے اعلان پر معروف سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” پاکستان کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے شاہ رخ جتوئی کو دہشت گردی کے الزامات سے بری کرنے کے سپریم کورٹ کے آج کے حکم نامے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو فرد جرم کے تحت سزا کے امکان پر غور کرنا چاہیے تھا۔ امید ہے انصاف ملے گا۔
Office of the Attorney General of Pakistan has announced filing a review petition against today’s Order of Hon’ SC acquitting #ShahrukhJatoi of terrorism charges and has stated that SC should have considered possibility of conviction under Fasad-fil-arz. Hope justice prevails pic.twitter.com/bEONMPkfQu
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) October 18, 2022
واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے مشہور زمانہ شاہ قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
دوران سماعت ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ فریقین کے درمیان راضی نامہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ قتل کے ایک واقعے کو دہشتگردی کا رنگ دیا گیا۔
واضح رہے کہ جون 2013 میں ٹرائل کورٹ نے شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج تالپور کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ دیگر مجرموں نواب سجاد اور غلام مرتضٰی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
سزائے موت سنائے جانے کے بعد نومبر 2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے ماتحت عدالت کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کی ہدایت کی تھی۔
2017 میں شاہ زیب خان کے والدین نے قصاص اور دیت کے قانون کے تحت صلح نامے کے بعد ملزم شاہ رخ جتوئی کو معاف کر دیا تھا جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔
تاہم فروری 2018 میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اس مقدمے میں ملوث چاروں مجرمان کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انھیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔
شاہ زیب خان کی ہلاکت کا واقعہ 24 دسمبر 2012 کی شب کراچی میں ڈیفینس کے علاقے میں پیش آیا تھا جہاں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں نے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کر کے انھیں قتل کر دیا تھا۔









