سپریم کورٹ سے شاہ رخ جتوئی کی بریت پر شوبز شخصیات کا بھی اظہار افسوس
ماہرہ خان نے عدالتی فیصلے کو شرمناک قرار دیدیا، اس ملک میں مظلوموں کیلئے صرف افسوس ہی کرسکتے ہیںِ، ماورا حسین: گلوکار و اداکار ہارون شاہد کا نوجوانوں کو ملک چھوڑنے کا مشورہ

سپریم کورٹ سے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور اسکے ساتھیوں کی بریت پر عوام الناس کے ساتھ ساتھ پاکستانی شوبز انڈسٹری کے نامور فنکاروں ماہرہ خان، ماورا حسین اور ہارون شاہد نے بھی شدید مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
حال ہی میں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر فلم دی لیجنڈ آف مولاجٹ کی ہیروئن ماہرہ خان نے مجرموں کی بریت کو شرمناک قرار دیدیا۔
یہ بھی پڑھیے
شاہ زیب قتل کیس: سپریم کورٹ سے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کی بریت کا حکم صادر
شاہ زیب قتل کیس: اٹارنی جنرل اور جبران ناصر کا عدالت عظمیٰ سے شکوہ
ماہرہ خان نے اپنے ٹوئٹ میں شاہ رخ جتوئی کی خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ طاقت کا کھیل ہے، بیمار، شرمناک۔
Power di game!!! Sickk!! Shameful! https://t.co/SEj5SkX5Dn
— Mahira Khan (@TheMahiraKhan) October 18, 2022
اداکارہ ماورا حسین نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اس ملک میں ہم مظلوموں کیلیے صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ اللہ شاہ زیب کے اہل خانہ کو صبر اور طاقت عطا فرمائے جنہیں اس ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔وہ ہم میں سے ایک ہیں،ہم طاقت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ کچھ نہیں!!!
In this country all we can do is feel sorry for the oppressed. May Allah give patience & strength to Shahzeb’s Family who have to witness this injustice.
They’re one of us..
We’re nothing without power. Nothing!!! #ShahrukhJatoi #shahrukhjatoimurdercase— MAWRA HOCANE (Hussain) (@MawraHocane) October 18, 2022
اداکار ہارون شاہد نے اپنے ردِعمل میں اسے سامان پیک کر کے ملک چھوڑنے کا وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ میں سے جو نوجوان، پڑھے لکھے اور پرعزم ہیں، برائے مہربانی اپنے بچوں کی خاطر اگر موقع ملے تو باہر نکل جائیں‘۔
Time to pack up and leave. For those of you who are young, educated and determined please, for the sake of your children, move out if the opportunity arises. https://t.co/OE2FIBzcQv
— Haroon Shahid (@Haroon_5hahid) October 18, 2022
ایک اور ٹوئٹ میں ہارون شاہد نے سوال اُٹھایا کہ”شاہ زیب کے والدین بظاہر اس واقعے کے بعد بیرون ملک آباد ہو گئے تھے لیکن آج مجھے ان تمام لوگوں کی حفاظت اور صحت کی فکر ہے جنہوں نے اس عفریت کے خلاف گواہی دی۔ کیا معزز ججز اور پولیس انہیں تحفظ اور تحفظ فراہم کریں گے؟“۔
Shahzeb’s parents apparently settled abroad after the incident but today I worry for the safety and well being of all the people who testified against this monster. Will the honorable judges and police provide and guarantee them safety and protection?
— Haroon Shahid (@Haroon_5hahid) October 18, 2022
یاد رہے کہ سندھ کے معروف کاروباری خاندان کے چشم و چراغ شاہ رخ جتوئی نے 25دسمبر 2012 کو ڈیفنس کراچی کے درخشاں تھانے کی حدود میں 20 سالہ نوجوان شاہ زیب کو بہن کی شادی سے گھر واپسی پر قتل کردیا تھا۔
شاہ زیب قتل کیس میں ٹرائل کورٹ نے شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج تالپور کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ ملزم نواب سجاد اور غلام مرتضیٰ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اب 10 سال کے عرصے کے بعد گزشتہ روز سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا ہے۔









