اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان مذاکرات: حکومتی حامی صحافی کنفیوژن کا شکار

تجزیہ کاروں  کا کہنا ہے کہ غریدہ فاروقی ، حامد میر اور مبشر لقمان جیسے سینئر صحافی مذاکرات نہیں ہونے کی اطلاعات دے کرکے کسی ترجمانی کررہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں ہورہے اس سے فرق نہیں پڑتا ، فرق اس بات پر پڑتا ہے کہ تین سینئر ترین صحافیوں حامد میر ، مبشر لقمان اور غریدہ فاروقی نے تقریباً ایک ہی وقت پر اور تقریباً ایک جیسے ہی ٹوئٹ کرکے اطلاع دی ہے کہ مذاکرات نہیں ہورہے۔

سماجی رابطوں  کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شام 6 بجکر 18 منٹ پر معروف اینکر پرسن حامد میر نے ٹوئٹ کیا کہ ” باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔”

یہ بھی پڑھیے

وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے ملک کی تباہی کا ذمہ دار اداروں کو قرار دے دیا

کمشنر ایف بی آر سکھر سے اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "بیک ڈور چینل بھی خاموش ہو چکا تو پھر عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کب کرینگے؟۔”

اسی طرح معروف صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے ٹوئٹر ہینڈل پر 7 بجکر 13 منٹ پر پیغام شیئر کیا کہ ” مکمل ذمہ داری سے خبر دے رہی ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ/عمران خان/PTI کے درمیان کسی بھی مذاکرات کی خبریں مکمل غلط ہیں۔”

انہوں نے کور کمانڈر کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "خاص طور پر کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد؛ یہ باتیں پھیلانا کہ کوئی ڈیل یا جلد الیکشن یا کوئی سمجھوتہ ہو رہا ہے؛ مکمل فیک نیوز FAKE NEWS ہے؛ میڈیا/سوشل میڈیا پر غلط خبر ہے۔”

اسی طرح سینئر صحافی مبشر لقمان نے غریدہ فاروقی کو فالو کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹر ہینڈل پر پیغام لکھا ہے کہ ” پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ممکنہ ڈیل یا تصفیہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر چلنے والی مختلف خبریں سراسر غلط اور من گھڑت ہیں۔”

مبشر لقمان نے مزید لکھا ہے کہ "میرے ذرائع کے مطابق پائپ لائن میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے اور یہ سچائی کو گھڑنے کی ایک اور کوشش ہے۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غریدہ فاروقی اور مبشر لقمان نے ایک ہی وقت میں ٹوئٹ کیا یہ بعد کی بات ہے کہ مبشر لقمان نے غریدہ فاروقی کو فالو کیا یا اول الذکر کو موخر الذکر نے فالو کیا ، جبکہ حامد میر نے کچھ دیر قبل انہیں سے ملتا جلتا ٹوئٹ کیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں سینئر صحافیوں کو ایک جیسے جیسے ٹوئٹ کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور ٹوئٹ کے لیے وقت بھی ایک ہی دیا جاتا ہے۔؟

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ تینوں صحافیوں کی اطلاعات کے مطابق کوئی مذاکرات نہیں ہورہے اور اگر ہو بھی رہے تھے تو کامیاب نہیں ہوئے۔ مطلب یہ ہےکہ عمران خان نے جو بیان دیا تھا کہ بیک ڈور چینل مذاکرات ہو رہے وہ غلط تھا اور ان صحافیوں کی اطلاعات درست ہیں ، سوال یہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ ڈیل ہورہی یا نہیں ہورہی ہے ، اس ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے سے صحافیوں کو کیا فرق پڑتا ہے ، کیا ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ عوام کو بتائیں کہ ڈیل نہیں ہورہی۔؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہمارے مصدقہ ذرائع نے اس بات کو کنفرم کیا ہے کہ مذاکرات ہو رہے ہیں ، مگر ابھی تک مذاکرات کسی نہج پر نہیں پہنچے ہیں ، لیکن مذاکرات ختم بھی نہیں ہوئے۔ اب مذاکرات ہورہے ہیں یا نہیں ہورہے یہ تو وقت ثابت کرے گا۔

متعلقہ تحاریر