وزیر داخلہ و خزانہ کے استعفے کے بعد برطانوی وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان

برطانوی وزیر اعظم لزٹرس نے ملک میں بڑھتے سیاسی انتشارکی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کااعلان کردیا۔ 6 ہفتے قبل وزارت عظمیٰ سنبھالنے والی خاتون وزیراعظم برطانیہ کی تاریخ میں سب سے کم مدت تک رہنے والی وزیراعظم بن گئیں، ان کے اعلان سے چند گھنٹے قبل وزیر داخلہ اور ایک روز قبل وزیر خزانہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں

برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے ملک میں بڑھتے سیاسی انتشار کی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ 6 ہفتے قبل وزیراعظم بننے والی لزٹرس نے کہا کہ نئے وزیراعظم کے انتخاب تک وزیراعظم رہیں گیں۔

برطانیہ کی وزیراعظم لزٹرس نے سیاسی انتشارکی وجہ سے اعلان کیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہورہی ہیں تاہم نئے قائد ایوان کے انتخاب تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر رہیں گیں۔

یہ بھی پڑھیے

بادشاہت کو ذلت آمیز قرار دینے والی لِزٹَرس کی ملکہ کے محل میں حاضری

ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر اپنے ایک خطاب میں لزٹرس نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ استعفے کے اعلان کے بعد وہ برطانیہ کی تاریخ میں سب سے کم مدت تک رہنے والی وزیراعظم بن گئیں۔

لزٹرس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے استعفیٰ کےحوالے سے بادشاہ سے پہلے ہی مذاکرات ہوچکے ہیں تاہم جب تک کوئی جانشین منتخب نہیں ہو جاتا وہ وزیراعظم رہیں گیں۔

لزٹرس کے استعفے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے وزارت داخلہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وزیرداخلہ سے قبل  وزیر خزانہ بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔

مستعفی وزیرداخلہ بریو مین نے کہا تھا کہ  لزٹرس کی حکومت میں بطور وزیر شامل ہونا میری غلطی تھی اس لیے اپنے عہدے سے الگ ہورہی ہوں ۔

واضح رہے برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے چھ ستمبر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی کنزرویٹو پارٹی کے نسبتا آزادی پسند ونگ کے سینئیر لوگوں کو کابینہ میں لیا تھا۔

متعلقہ تحاریر