مقتول شاہ زیب کی کزن نے خاندان کے مصائب بیان کردیے

اس خبر نے ہمارے ان زخموں کو پھر سے ہرا کردیا ہے جنہیں مندمل ہونے میں برسوں لگے تھے ۔ میں نہیں جانتی کہ ذمے دار کون ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اس ناانصافی پر جہنم میں سڑ یں گے، مقتول کی کزن منیزہ جہانگیر خان کا انسٹاگرام اسٹوریز میں دکھ بھرا اظہار خیال

کراچی کے معروف کاروباری خاندان کے  بگڑے  نوجوان شاہ رخ جتوئی کے ہاتھوں 25دسمبر 2012 کو قتل ہونے والے نوجوان  شاہزیب خان کی کزن نے سوگوار خاندان کے بارے میں دردناک معلومات بیان کی ہیں۔

 مقتول شاہ زیب خان کی کزن منیزہ جہانگیر خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں  لکھاکہ” میں تمہیں اپنے چھوٹے بھائی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھوں گی، جسے شہر کے ایک جانور نے ناحق مار ڈالا تھا۔ وہ ایک دن اللہ کو جواب دیں گے، تب تمہیں انصاف ملے گا!“۔


یہ بھی پڑھیے

شاہ رخ جتوئی کو بنیاد بناکر دہشتگردوں نے بھی”وی آئی پی علاج“  کے مزے اڑائے

سپریم کورٹ سے شاہ رخ جتوئی کی بریت پر شوبز شخصیات کا بھی اظہار افسوس

شاہ رخ جتوئی کی رہائی: اٹارنی جنرل اور جبران ناصر کا عدالت عظمیٰ سے شکوہ

انہوں نےصارفین کو مخاطب کرتے ہوئے  لکھاکہ”میں آپ کیلیے خاکہ بنادیتی ہوں۔ یہ آپ کے خاندان میں پہلی شادی ہے، یہ آپ کی بڑی بیٹی کا ولیمہ ہے۔ آپ کا ایک بیٹا ہے، جو ایک مہینے بعد 21 سال کا ہو جائے گا، ولیمہ ختم ہونے کے بعد رشتیداروں کو شہر بھر میں چھوڑنے کے پیچیدہ کامیں مصروف ہیں۔آپ گھر پہنچ کر کپڑے بدلتے   ہی ہیں کہ  آپ کو اس کے دوستوں کا فون آجاتا ہے اور وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ اسے گولی مار دی گئی ہے اور وہ اسے جلدی سے ضیاالدین ہسپتال لے جا رہے ہیں۔ آپ کو یاد رکھیں، وہ اب بھی اسی سوٹ میں ہے جو اس نے اپنی بہن کے ولیمے پر پہنچا تھا “۔

انہوں نے مزید لکھا کہ”سالوں کے دوران، میں نے اس پورے واقعے کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنا سیکھ لیا ہے، ہم نے اپنے ماموں کے اکلوتے بیٹے   اور پھر اپنے ماموں  کو کھودیا، ان کا خاندان ٹوٹ گیا اور یہ تبدیلی آپ نے خوددیکھی، ان میں شگاف پڑگئے، وہ ایک ہنستا بستا خاندان تھا اور میں نے انہیں دوبارہ کبھی خوش نہیں دیکھا۔ لیکن وقت نے ہم  سب   کو شفا بخشی  لیکن یہ  ایسی خبر ہے جس نے ہمارے ان زخموں کو پھر سے ہرا کردیا ہے جنہیں مندمل ہونے میں برسوں لگے تھے ۔ میں نہیں جانتی کہ ذمے دار کون ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اس ناانصافی پر جہنم میں سڑ یں گے “۔

 مقتول شاہ زیب کی کزن نے مزید کہا کہ”پوچھنے والے تمام لوگوں کو بتاتی چلوں کہ میرے ماموں کے خاندان نے پیسے نہیں لیے – ہاں، انہیں بیانات دینے اور دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا گیا – اگر آپ اس تکلیف کا احترام نہیں کر سکتے جس سے ہمارا خاندان اس وقت گزر رہا ہے، تو براہ کرم کوشش کریں اور مہربانی کریں، ہمارے مقاصد اور ارادوں پر سوال کرنے کےبجائے خاموش ہوجائیں“۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے منگل کو شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو 10 سال بعد بری کردیا تھا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے 2012 میں معمولی جھگڑے کے بعد جتوئی اور اس کے ساتھی سراج علی تالپور کو شاہ زیب کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔ سراج کے چھوٹے بھائی سجاد علی تالپور اور گھریلو ملازم غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر