50 فیصد سنیما دی لیجنڈ آف مولا جٹ نہیں دکھارہے، ندیم مانڈوی والا
فلم نے گیارہ دنوں میں 120 کروڑ کمانا تھے لیکن اب تک 144 میں سے صرف 60 سنیماز نے دکھائی ہے، چند دن فلم دکھائیں اندازہ ہوگا آپ کتنی بڑی فلم نظرانداز کررہے تھے، تقسیم کار کا سنیما مالکان کو مشورہ

مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کے روح رواں اور فلموں کے تقسیم کارندیم مانڈوی والا نے فلم دی لیجنڈ آف مولاجٹ کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور بہترین فلم قرار دیتے ہوئے شکوہ کیا ہے کہ کچھ سنیما مالکان فلم دکھانے کیلیے تعاون نہیں کررہے۔
انہوں نےبتایا ہے کہ دی لیجنڈ آف مولاجٹ 144 میں سے صرف 60سنیماز میں دکھائی جارہی ہے، فلم نے گیارہ دنوں میں 120 کروڑ کمانا تھے لیکن اب تک 50 فیصد سینما گھروں میں نہیں دکھائی جاسکی، چند دن فلم دکھائیں اندازہ ہوگا آپ کتنی بڑی فلم نظرانداز کررہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ماہرہ خان کے پنجابی لہجے کا مذاق اڑانے والوں کوفیفی ہارون کرارا جواب
نیوپلیکس نے دی لیجنڈ آف مولاجٹ نہ دکھاپانے کا ذمے دار ڈسٹری بیوٹر کو قراردیدیا
فلم کے پروڈیوسر عدنان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ندیم مانڈوی والا نے کہاکہ ”میں 44 سالوں سے اس طرح کی فلم کا انتظار کر رہا ہوں اور یہ بہت اچھا بزنس کرنے والی ہے۔ اس فلم کو دیکھ کر ہر کوئی حیران ہے کیونکہ یہ تمام رکاوٹوں کو توڑ سکتی ہے“۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ فلم کو پاکستان اور دنیا بھر میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے لیکن کچھ سینما مالکان فلم کے لیے تعاون نہیں کر رہے ،میری اُن سے درخواست ہے کہ اتنی بڑی فلم سے دور رہ کر اپنا بزنس متاثر نہ کریں، چند دن یہ فلم دکھائیں، اندازہ ہوجائے گا کہ آپ کتنی بڑی فلم نظر انداز کر رہے تھے۔
مانڈوی والا نے کہا کہ یہ فلم تاریخ رقم کر رہی ہے، یہ واحد پاکستانی فلم تھی جس نے دنیا بھر میں اتنا بڑا بزنس کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک میں تمام سینما گھروں نے ان کی فلموں کی حمایت کی، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں سینما گھروں کی تعداد پہلے ہی کم ہے اور یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ ان سنیما گھروں نے ایسی فلم کو نظر انداز کیا۔
View this post on Instagram
انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے جو حکمت عملی بنائی تھی اس کے مطابق فلم کو 11 دنوں میں اچھی کمائی کرنی چاہیے تھی اور اسی وجہ سے انہوں نے کچھ سینما مالکان کو اس کی نمائش کے لیے راضی کیا تھا۔ پریس کانفرنس میں فلم کے پروڈیوسر عدنان بھی موجود تھے۔
ندیم مانڈوی والا نے کہا کہ بطور فلم ڈسٹری بیوٹر وہ تمام سینما مالکان کے پاس گئے اور فلم کی نمائش کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ میگا بجٹ فلم اب تک ملک کی 144 میں سے صرف 60 سینما گھروں میں دکھائی گئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے سینما مالکان سے 11 دن کے لیے اپنے دو مطالبات میں سے ایک کو تسلیم کرنے کی درخواست کی تھی اور ابھی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم کے ٹکٹوں کی قیمت اس لیے بڑھائی گئی کیونکہ ان کا ہدف فلم کو باکس آفس پر 100 کروڑ کا بزنس کروانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ فلم نے گیارہ دنوں میں 120 کروڑ کمانا تھے لیکن اب تک 50 فیصد سینما گھروں میں نہیں دکھائی جاسکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلم کی ریلیز کی تاریخ کا انتخاب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا کہ اس ہفتے کے دوران سینما گھروں پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔









