گلوکارہ ایوا بی بطور سفیر ایکول پاکستان ٹائمز اسکوائر پر جلوہ گر
ایوابی کا گیت مختصر باتیں اسپاٹیفائی پروگرام کا حصہ بنا ہے اور ایکول کی مقامی اور عالمی پلے لسٹس میں شامل ہے۔

پاکستان میں پہلی باحجاب گلوکارہ ایوا بی اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان کی اکتوبر کی سفیر کے طور پر نیویارک کے ٹائمز اسکوائر کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر جلوہ گر ہوئی ہیں۔
ان کا گیت مختصر باتیں اسپاٹیفائی پروگرام کا حصہ بنا ہے اور ایکول کی مقامی اور عالمی پلے لسٹس میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ایوا بی کا گانا”روزی “ بھی مس مارول کی پہلی قسط میں نشر ہوگیا
ایوا بی کاگارڈین میں شائع انٹرویو چوری کرنے پر روزنامہ جنگ پر تنقید
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایوا بلوچ اپنے قلمی نام ایوا بی سے جانی جاتی ہیں جنہوں نے میوزک انڈسٹری میں اوپر تلے ہلچل مچائی ہوئی ہے۔ اسپاٹیفائی پر انکے ماہانہ سامعین کی تعداد تقریباً 4 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ انکے گیت کانا یاری کو اب تک ایک کروڑ سے زائد بار اسٹریم کیا جاچکا ہے۔
View this post on Instagram
عالمی سطح پر عظیم گلوکار ایمینیم اور کوئن لطیفہ سے تحریک پاکر ایوا بی نے سال 2014ء میں اپنے میوزک کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ابتدائی طور پر گیتوں کے بول لکھ کر انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے شروعات کی جہاں انہوں نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی اور انکے پرستاروں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔
انہوں نے ایک طویل سفر طے کیا ہے جس کے دوران انہوں نے بڑے گلوکاروں جیسے علی گل پیر، محمد اور انس بلوچ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے ۔ ان کا گیت’روزی‘ مس مارول ٹی وی سیریز کی پہلی قسط کے اختتام کا حصہ بننے کا اعزاز رکھتا ہے۔
ایوا بی نے رواں ماہ ایمبیسڈر ایکول پاکستان بننے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ”میں اسپاٹیفائی کے ایکول پروگرام کا حصہ بننے پر نہایت خوش ہوں، اس طرح کے اقدامات نہ صرف انتہائی اہم ہیں بلکہ یہ وقت کی اشد ضرورت ہیں“۔
ایوابی نے خواتین گلوکاروں کے اپنے پسندیدہ ترین گانوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں عابدہ پروین اور نصیبو لعل کا تو جھوم بہت پسند ہے اور ان کی خواہش تھی کہ کاش وہ اس گانے میں وہ ایک لائن اپنے ہپ ہاپ والے انداز میں گاتیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گانا دل کو چھوتا ہے اور وہ روز یہ گانا ایک بار ضرورت سنتی ہیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے بتایا کہ مومنہ مستحسن کاگانا یاریاں بھی ڈیڑھ سال سے انکی پلے لسٹ میں ہے اور یہ گانا سن کر انہیں لگتا ہے کہ وہ کسی اور دنیا میں چلی گئی ہیں۔ایوا بی نے میشا شفیع کے گانےراج کماری کی بھی تعریف کی،انہوں نے کہا کہ وہ جب بھی خود کو اداس اور کم ہمت محسوس کرتی ہیں تو وہ یہ گاناسنتی ہیں کیونکہ یہ گانا انہیں حوصلہ اور جذبہ دلاتا ہے کیونکہ میشاشفیع خود بہت طاقتور اور بہادر ہیں اور وہ ان کے جیسا بننا چاہتی ہیں۔
ایوابی نے کہا کہ یشل شاہد کا گانا’سجنا ‘بھی ان کے پسندید گانوں میں شامل ہے، یہ گانا صرف یشل شاہد کیلیے ہی بنا ہے،انہوں نے بتایا کہ قرۃ العین بلوچ کا گانا بے وفائیاں بھی پانچ سال سے ان کی پلے لسٹ میں شامل ہے۔
پاکستان کی پہلی باپردہ خاتون گلوکارہ ایوا بی کو بطور آرٹسٹ پردے کو اپنی پہچان بنانے پر فخر ہے۔ ان کا روایتی گھرانے سے تعلق ہے، وہ کراچی کے علاقے لیاری میں پلی بڑھی ہیں ، اس علاقے کی ہپ ہاپ، طاقتور باکسرز اور فٹ بالرز تیار کرنے کے طور پر پہچان بڑھ رہی ہے۔









