جبران ناصر کا پاکستان کے نظام انصاف پر تحفظات کا اظہار

معروف وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر کا کہنا ہے جو ججز عدالتی نظام کو تباہ کرتے ہیں وہ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس اپنی سوچ اور فیصلہ دینے کی صلاحیت ، ہمت اور دیانت نہیں ہوتی۔

مغویہ بچی دعا زہرہ کیس میں بچی کے والد مہدی علی کاظمی کے وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے پاکستان کے نظام انصاف پر شدید قسم کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر نےلکھا ہے کہ "ایک وکیل کی حیثیت سے میں ججز کا احترام کرتا ہوں ، خواہ وہ میرے خلاف فیصلہ کریں یا میرے حق میں۔”

یہ بھی پڑھیے

موٹر وے پولیس کے زیرانتظام قومی شاہراہ پر موک ایکسائز کا انعقاد کیا گیا

پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم  نے کراچی کے عوام کو نیا لولی پوپ دیدیا

وکیل جبران ناصر نے مزید لکھا ہے کہ "لیکن جو ججز عدالتی نظام کو تباہ کرتے ہیں وہ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس اپنی سوچ اور فیصلہ دینے کی صلاحیت ، ہمت اور دیانت نہیں ہوتی۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "مقدمات پر التوا کا شکار وکیلوں اور انصاف کو مایوس کرتا ہے۔”

مشہور زمانہ ناظم جوکھیو قتل کیس کے ملزمان کی رہائی ، شاہ زیب قتل کیس میں ملزمان کی بریت اور اور سارہ انعام قتل کیس میں بھی کمزور پراسیکیوشن پر جبران ناصر نے گذشتہ دنوں کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

جبران ناصر کے ہم آواز بنتے ہوئے ثنا قیصر نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ "وہ مناسب فیصلہ کرنے کی بھی پرواہ نہیں کرتے، لہذا انہیں اس عہدے پر فائز ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔”

ارم رضوی نے برنیس کنگ کا مشہور زمانہ اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ” "اپنے اور دوسروں کے ساتھ ہونے والی ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں، اور آپ اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک زبردست مثال قائم کریں گے۔”

متعلقہ تحاریر