ٹی20 ورلڈ کپ: آخری اوور میں نواز کی نوبال متنازع، سابق کرکٹرز بھی بول پڑے

نوبال کا ری ویو کیوں نہیں لیاگیا؟بریڈ ہاگ:کریز سے باہر  پاؤں ہونے پر کبھی نو بال نہیں ہوتی، یہ سراسر جرم ہے، جان برک: شعیب اختر کا امپائرز کو فیصلے پر سوچنے کا مشورہ

آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے کے سنسنی خیز مقابلےمیں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کو4 وکٹوں سے شکست کے بعد میچ میں امپائرنگ کا پست معیار سوشل معیار سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔

سابق آسٹریلوی کرکٹ بریڈ ہاگ اور سابق پاکستانی اسپیڈ اسٹار شعیب اختر اسمیت کئی کھلاڑیوں اور لاتعداد سوشل میڈیا صارفین نے آخری اوور  میں محمد نواز کی چوتھی گینڈ ویسٹ ہائیٹ کی بنیاد پر نو بال قرار دینے پر فیلڈ امپائرز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی 20 ورلڈ کپ سپر 12 مرحلہ: انڈین سورماؤں نے پاکستانی شاہینوں کے پر کُتر دیئے

شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے بیٹے ازہان مرزا ملک نے ٹینس کورٹ میں قدم رکھ دیا

سابق آسٹریلوی آل راؤنڈر اور موجودہ تبصرہ نگار بریڈ ہاگ نے اپنے ٹوئٹ  میں کوہلی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ نو بال کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا، پھر یہ ڈیڈ بال کیسے نہیں ہو سکتی جب کوہلی فری ہٹ پر بولڈ ہو گئے۔

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق کرکٹر، کوچ اور تبصرہ نگارجان  برک نے اپنے ٹوئٹ  میں لکھا کہ کریز سے باہر  پاؤں ہونے پر کبھی نو بال نہیں ہوتی، یہ سراسر جرم ہے۔

پاکستان کے سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اخترنے اپنے ٹوئٹ میں  وایرت کوہلی کی جانب سے نواز کی نو بال قرار دی گئی گیند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ  امپائر بھائیو! آج رات سوچنے کیلیے ہے۔

دی کرکٹر میگزین  کے سینئر نامہ نگار جارج ڈوبیل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ گیند اسٹمپ سے ٹکرانے اور باؤنڈری کی طرف جانے کے بعد گیم جیتنے کا تصور کریں۔بعدازاں ایک صارف کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے فری ہٹ پر بولڈ ہونے کے بعد کوہلی کے 3 رنز لینے کو درست اقدام قرار دیا۔

متعلقہ تحاریر