خواجہ سرا گل چاہت کا خانہ کعبہ میں ہراسانی کا نشانہ بنائے جانےکا دعویٰ
پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت نے اپنے ایکوڈیو پیغام میں روتے ہوئے کہا کہ ہمیں اللہ کے گھر اور نبی ﷺ کے در پر ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، گل چاہت نے ایک سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پوسٹ کی جس میں وہ سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنے اوپر بیتے بدترین واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں

سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت نے ہراسانی کا نشانہ بننے کے بعد روتے ہوئے اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ ہمیں اللہ کے گھر میں بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔
مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں مشہور پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت کو نا معلوم افراد کی جانب سے خانہ کعبہ میں ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ اللہ کے گھر میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
ٹرانس جینڈر ایکٹ پر نظرثانی کرکےاسکا نام خواجہ سرا ایکٹ رکھاجائے، ماریہ بی
مشہور پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت جوکہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں موجود ہیں انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جس پر ان کا ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا ۔
گل چاہت نے ایک سوشل میڈیا پرایک وڈیو پوسٹ کی جس میں وہ سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنے اوپر بیتے بدترین واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں رب کے گھر میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔
ہر مرتبہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی صل اللہ علیہہ وسلم کی توہین کرنے والے سرٹیفائیڈ مومنین ذرا واضح کرلیں کہ کونسے دینی کتاب یا ضابطہ کے تحت آپ کو کسی کمزور انسان کو حراساں کرنے کی اجازت ملی ہے۔ کیا خواجہ سرا گل چاہت اللہ کا بندہ نہیں یا تم لوگ اللہ کے نزدیک بہت خاص ہو۔
شرم کو شرم pic.twitter.com/YfjnoYlwUF— Umaiza Ali (@UmaizaAli) October 23, 2022
گل چاہت نے سخت اضطراب اور بے چینی سے اللہ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ "اے رب کریم ہمیں ایسا کیوں بنایا ۔ اللہ کریم ہمیں تیرے گھر اور تیرے محبوب ﷺ کے در پر زلیل کیا جارہا ہے ، ہم کہاں جائیں؟۔
صحافی رحمان بونیری کی جانب سے ٹوئٹر پر گل چاہت کی وڈیو شیئر کی گئی تو اس پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اسے سراسر غیرانسانی سلوک قرار دیا ۔
مشہور پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت نے مکہ مکرمہ سے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ انہوں نے سینہ کوبی کرتے اور بلکتے ہوۓ کہا ہے کہ انکو اللہ کے گھر میں بھی حراساں کیا گیا:
“یا اللہ ہمیں اپ سے گلہ ہے، ہمیں ایسے کیوں بنایا”۔
ہمیں اللہ کے گھر اور روضۂ رسول پر بھی زلیل کیا جاتا ہے، اب کدھر جاۓ” pic.twitter.com/VkWyUe7REX— Rahman Bunairee (@RahmanBunairee) October 22, 2022
ابراہیم جمیل نامی ٹوئٹر صارف نے کہا کہ اگر یہ بات سچ ہے۔ تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ یہ بات بہرحال سچ ہے۔ کہ خواجہ سرا لوگوں کو ہمارا معاشرہ قبول نہیں کرتے۔
اگر یہ بات سچ ہے۔ تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ یہ بات بہرحال سچ ہے۔ کہ خواجہ سرا لوگوں کو ہمارا معاشرہ قبول نہیں کرتے۔ اور ان لوگوں کو ان کے والدین تک قبول نہیں کرتے۔ یہ ہمارے معاشرے کی انتہائی نامناسب، غیر اسلامی اور قابل مذمت چہرہ ہے۔
Respect X Gender.— Ibrahim Jamil (@IjamilEdwardes) October 22, 2022
انہوں نے لکھا کہ خواجہ سراہوں کو ان کے والدین اور گھر والے تک قبول نہیں کرتے۔ یہ ہمارے معاشرے کی انتہائی نامناسب، غیر اسلامی اور قابل مذمت چہرہ ہے۔
ظہوریوسفزئی نامی ٹوئٹرہینڈل سے گل چاہت کو مشورہ دیا گیا کہ کسی غیرمسلم ملک منتقل ہوجائیں کیونکہ وہاں کسی کے پاس اتنا وقت خواجہ سراہوں پر تنقید کرنے کے لیے ۔
ان کو چائیے کہ کوئ غیر مسلم ریاست منتقل ہوجائے کیونکہ وہاں نہ کسی کے ہاس ٹائیم ہوتاہے تنقید کرنے کئلے اور نہ ان لوگوں کے زہنیت اور سوچ ہمارے طرح تنگ نظر اور فارغ لعقل ہوتاہے ۔ہمارے معاشرے کا ہر بندہ گل چاہت ہے لکین پردے کے پیچھے ۔
— ظہور یوسفزئ (@zeakyousafzai) October 23, 2022
ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلم ممالک کے لوگوں کی ذہنیت اور سوچ ہماری طرح تنگ نظر نہیں ہے اور نہ ہی وہ فارغ العقل لوگ ہیں ۔ہمارے معاشرے کا ہر بندہ گل چاہت ہے لیکن پردے کے پیچھے ۔









