لانگ مارچ کو روکنے کیلئےسندھ پولیس کے 6 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے
الیکشن کمیشن کوبار بار پولیس کی نفری میں کمی کا عذر پیش کرکے کراچی کے بلدیاتی الیکشن سے راہ فراراختیار کرنے والی پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے سندھ پولیس کے 6 ہزاراہلکار اسلام آباد بھجوا دیئے ہیں، سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو بتایا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کیلئے پولیس فورس دستیاب نہیں ہے

کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی الیکشن سے پولیس کی نفری نہ ہونے کے بہانے راہ فرار اختیار کرنے والی پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے اسلام آباد میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے 6 ہزار پولیس اہلکار وفاقی دارالحکومت بھیجوا دیئے ۔
الیکشن کمیشن پاکستان کو باربار پولیس کی نفری میں کمی کا عذر پیش کرکے کراچی کے بلدیاتی الیکشن سے راہ فرار اختیار کرنے والی پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے سندھ پولیس کے 6 ہزار اہلکار اسلام آباد بھجوا دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی کے بلدیاتی انتخابات: سندھ حکومت پولیس نہ ہونے کا عذر لے آئی
کرائم رپورٹر افضل ندیم ڈوگر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، اسلام آباد پولیس اور سندھ پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کیلئےسندھ پولیس کے 6 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کا ممکنہ لانگ مارچ، سندھ پولیس کی نفری اسلام آباد پہنچ گئی۔
سندھ پولیس کے اب تک 6000 کے قریب اہلکار اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔@ImranKhanPTI @ICT_Police @SindhPolice90 #imrankhanPTI— Afzal Nadeem Dogar (@GeoDogar) October 24, 2022
یاد رہے کہ سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن پاکستان کو پولیس کی نفری کی کمی کا بہانہ بناکر کراچی اور حیدر آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر ای سی پی نے سندھ کے شہری علاقوں میں لوکل گورنمنٹ الیکشن ملتوی کردیئے تھے ۔
سندھ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن حکام کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ شہر میں جاری مختلف آپریشنز اور سیکورٹی ایشوز کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کیئیے پولیس فورس دستیاب نہیں ہے۔
سندھ پولیس نے محکمہ داخلہ سندھ سے درخواست کی تھی کہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے متعلق امور 3 ماہ کے لیے موخر کیے جائیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے لیے 39 ہزار پولیس اہلکار درکار ہیں۔
خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ پولیس افسران، جوان سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے پولیس کے پاس 12 ہزار 465 اہلکار موجود ہیں جبکہ دس ہزار دیگر یونٹس کے اہلکار ہیں۔
دوسری جانب کراچی اور حیدر آباد کے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا انتظار کرتے کرتے 12 امیدوار جہاں فانی سے گزر گئے جس میں کورنگی ، وسطی یونین کے 2 امیدوار جبکہ چیئرمین اور وائس چیئرمین اور کونسلر کے امیدوار شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے انتظار میں 12 امیدوار دنیا سے رخصت ہوگئے
خیال رہے کہ کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے التوا کا سلسلہ جولائی کے مہینے سے جاری ہے، پہلی مرتبہ سندھ حکومت نے ممکنہ بارشوں کو جواز بناکر الیکشن کمیشن سے بلدیاتی الیکشن کے التوا کی درخواست کی۔
الیکشن کمیشن نے تیسری مرتبہ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دیتے ہوئے 23 اکتوبر کو الیکشن کرانے کا اعلان کیا تاہم سندھ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کی عدم فراہمی کو جواز بناکر ایک مرتبہ پھر بلدیاتی الیکشن غیر معینہ مدت تک ملتوی کردئیے گئے ۔









