عمران خان کا ڈیبیٹنگ سوسائٹی آکسفورڈ یونین میں تالیوں کی گونج میں والہانہ استقبال

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آکسفورڈ یونین سے خطاب میں مقتول صحافی ارشد شریف کے قتل سے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف نے کسی مافیا کو نہیں بخشا، وہ  کئی بار مجھ  پر بھی تنقید کرچکا ہے مگر اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتا تھا

 چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے آکسفورڈ یونین سے خطاب کیا۔ اس موقع پرانہوں نے مقتول پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے ۔

پاکستان تحریک انصاف  کے چیئرمین عمران خان کو بین الاقوامی ڈیبیٹنگ سوسائٹی آکسفورڈ یونین کی جانب سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی دعوت دی گئی ۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف کی جان کو خطرہ تھا میں نے خود اسے بتایا تھا، عمران خان

اس موقع پر آکسفورڈ یونین کے صدر پاکستانی طالب علم احمد نواز اور دیگر شرکاء نے عمران خان کا والہانہ اور تالیوں کی گونج میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔

ڈیبیٹنگ سوسائٹی  آکسفورڈ یونین سے اپنے خطاب میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے معاملات پر بات  چیت کی ۔

انہوں نے سوسائٹی کو بتایا کہ مقتول پاکستانی صحافی ارشد شریف کی جان خطرات لاحق تھے ،میں نے انہیں اس بارے میں آگیا کرتے ہوئے ملک سے باہر جانے کا مشورہ دیا تھا ۔

عمران خان نے کہا کہ ارشد شریف ایک  بہترین تحقیقاتی صحافی تھے، جنہوں نے ہماری حکومت کی تبدیلی کے راز فاش کیے، اسے سچ بولنے کی سزا ملی ہے ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس نے رجیم چینج  کی سازش کو ایکسپوز کیا تو انہیں دھمکیاں دیں گئیں، مجھے اطلاع ملی اسے ماردیا جائے گا جس پر اسے بیرون ملک جانے کا مشورہ دیا ۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ان دو خاندانوں کی کرپشن کو بے نقاب کرتا تھا جنہوں نے اس ملک کو لوٹا ہے، ارشد اسٹینڈ لیتا تھا اور حق پر کھڑا ہوجاتا تھا ۔

پی ٹی آئی چیف نے کہا کہ ارشد شریف کسی مافیا کو نہیں بخشتا تھا۔ اس نے مجھ پر بھی کئی بار تنقید کی، وہ اپنے ضمیر کا سودا کسی صورت نہیں کرتا تھا، ارشد شریف ایک محب وطن پاکستانی تھا۔

آکسفورڈ یونین سے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم عمران خان نے نیب قوانین کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ  نے  نیب کو کنٹرول کیا ہوا ہے ۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سویلین حکومت کے درمیان کبھی اختیارات کا توازن نہیں رہا۔ جمہوری حکومتوں کے پاس اختیارات نہیں ہوتے  ہیں۔

متعلقہ تحاریر