علی ظفر کی میشا شفیع کیلیے جلد جوڑوں کے درد سے نجات کی دعا
گلوکارہ جوڑوں کے درد کا بہانہ بناکر دوسری پیشی پر بھی عدالت نہیں آئی، ہتک عزت کیس کی سماعت 20 روز کیلیے ملتوی کرنے کی استدعا، علی ظفر کی وکیل بیرسٹر عنبرین قریشی نے میشا شفیع کے طرز عمل کو عدالتی نظام کیساتھ مذاق قرار دیدیا۔

اداکارہ میشا شفیع کے جوڑوں میں درد ایسا گھس کے بیٹھا ہے کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ علی ظفر کی جانب سے دائر کردہ ہتک عزت کے کیس مٰں گلوکارہ مسلسل دوسری پیشی پر بھی جوڑوں میں درد کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکیں۔
ایک نجی ٹی وی کے رپورٹر وقاص اعوان نے میشا شفیع کیخلاف مقدمے کی سماعت کی خبر شیئرکرتے ہوئے ٹوئٹرصارفین کو آگاہ کیا ۔علی ظفر نے اس ٹوئٹ پر اداکارہ وگلوکارہ کو طنز کا نشانہ بناڈالا۔
یہ بھی پڑھیے
گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کی ہالی ووڈ میں انٹری
میشا شفیع اور زیب بنگش کا لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر احتجاج
صحافی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جوڑوں کا درد، گلوکارہ میشا شفیع آج پھر ہتک عزت کے دعوے میں پیش نہیں ہوئیں۔ موقف اختیار کیا کہ جوڑوں میں درد کے باعث جرح کےلیے عدالت کھڑی نہیں ہوسکتی، 20 روز تک کارروائی ملتوی کی جائے۔ علی ظفر کی پاسپورٹ عدالتی تحویل میں رکھنے کی درخواست بھی بلا جواز قرار دے دی۔
میری دعا ہے کہ محترم جلد از جلد جوڑوں کے درد سے صحت یاب ہوں اورامید کرتا ہوں کہ عوام خاص کر وہ خواتین جنہوں نے حقائق کا مشاہدہ کیے بغیرانہیں اپنا حیرو مان لیا تھا ان سے التماس لریں کہ وعدے کے مطابق درد ٹھیک ہوتےہی عدالت تشریف فرماں ہوں اور بن بتائے پھر سے ملک چھوڑ کر نہ چلی جائیں https://t.co/YJv5Xg52BR
— Ali Zafar (@AliZafarsays) October 26, 2022
علی ظفر نے وقاص اعوان کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے اپنے تبصرے میں لکھاکہ میری دعا ہے کہ محترم جلد از جلد جوڑوں کے درد سے صحت یاب ہوں اورامید کرتا ہوں کہ عوام خاص کر وہ خواتین جنہوں نے حقائق کا مشاہدہ کیے بغیرانہیں اپنا ہیرومان لیا تھا ان سے التماس لریں کہ وعدے کے مطابق درد ٹھیک ہوتےہی عدالت تشریف فرماں ہوں اور بن بتائے پھر سے ملک چھوڑ کر نہ چلی جائیں۔
Meesha Shafi has made a joke of our legal system, i cannot imagine this being allowed to an ordinary citizen of our country. High time these nonsensical delays are accounted for. No where in the world is this allowed.All of this is happening despite Supreme Court orders! https://t.co/1fCN4I23Sk
— Barrister Ambreen Qureshi 🇵🇰 (@ambreenqureshi) October 26, 2022
علی ظفر کے ٹوئٹ پر تبصرے میں ان کی خاتون وکیل بیرسٹر عنبرین قریشی نے لکھاکہ میشا شفیع نے ہمارے عدالتی نظام کا مذاق اڑایا ہے، میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ ہمارے ملک کے ایک عام شہری کو اس کی اجازت دی جائے، ان بے ہودہ تاخیروں کا حساب لینے کا وقت ہے، دنیا میں کہیں بھی اس کی اجازت نہیں ہے، یہ سب سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ہو رہا ہے۔
I have represented heart patients, cancer patients, extreme fragile elderly citizens who despite showing their health reports could not get adjournments and were asked to finish their cross. There is a stark difference.
— Barrister Ambreen Qureshi 🇵🇰 (@ambreenqureshi) October 26, 2022
انہوں نے مزید لکھا کہ میں نے دل کے مریضوں، کینسر کے مریضوں، انتہائی عمر رسیدہ شہریوں کی نمائندگی کی ہے جو اپنی صحت کی رپورٹیں دکھانے کے باوجود التوا لینے میں ناکام رہے اور انہیں اپنی کراس ختم کرنے کو کہا گیا۔ ایک واضح فرق ہے۔
How dare you call out an “icon” like that. How dare you even question, or doubt. How dare you disagree from the entitled, the privileged. The judges, the juries, the executioners on twitter. How dare you use your freedom of speech until it’s not aligned with THEIR narrative. https://t.co/0bShgKd6Bs
— Ali Zafar (@AliZafarsays) October 26, 2022
علی ظفر نے خاتون وکیل کے ٹوئٹ پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ اس طرح کے "آئیکن” کو پکاریں۔ آپ کو سوال کرنے یا شک کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ حقدار، مراعات یافتہ طبقے سے اختلاف کریں۔ ججز، جیوری، ٹویٹر پر پھانسی دینے والے۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ اپنی تقریر کی آزادی کو استعمال کریں جب تک کہ یہ ان کے بیانیے کے مطابق نہ ہو۔









