ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کیا پاکستان اب بھی آگے جاسکتا ہے؟
پاکستان کی امیدیں اب اس بات پر قائم ہیں کہ بنگلہ دیش بھارت کو ہرا دے اور پھر خود جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش سے بڑے مارجن سے جیتے۔

نیدرلینڈز کے خلاف چھ وکٹوں سے فتح کے بعد پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں زندہ رہنے کی امید پیدا ہو گئی ہے ، تاہم ٹیم کو سخت محنت کرنا ہو گی ، اور اپنے بقیہ میچز میں فتح لازمی حاصل کرنا ہو گی ، سیمی فائنل میں رسائی تک دیگر نتائج کا بھی پاکستان کے حق میں آنا بہت ضروری ہے۔
ہندوستان کے خلاف جنوبی افریقہ کی غیر متوقع جیت کے ساتھ ہی جمع تفریق کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے ، کیونکہ جنوبی افریقہ کو سیمی فائنل میں کوالیفائی کرنے کے لیے ایک جیت درکار ہے اور اسے ٹورنامنٹ کی بظاہر کمزور ٹیم ہالینڈ سے ابھی میچ کھیلنا ہے۔
پاکستان کی امیدیں اب اس بات پر قائم ہیں کہ بنگلہ دیش بھارت کو ہرا دے اور پھر خود جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش سے بڑے مارجن سے جیتے۔ سیمی فائنل تک پہنچے کا یہ راستہ کافی کٹھن ہے اگر زمبابوے اپنے اگلے دو میچز ہار جاتا ہے تو۔
واقعات کی یہ ترتیب ناممکن دکھائی دے رہی ہے ، لیکن پاکستان کو یقین رکھنا چاہیے کہ وہ اب بھی اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ میتھمیٹکلی ان کے لیے ایسا کرنا ناممکن نہیں۔ کسی بھی ٹیم کی اہلیت کو متاثر کرنے کے لیے سب سے اہم عنصر موسم ہے جو کسی بھی وقت تبدیل ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو زمبابوے کے ہاتھوں شکست کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ نیٹ پریکٹس کے دوران ٹیم اپنے نقائص پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہے تو دوسری جانب ٹیم پاکستان کو بیٹنگ آرڈر کے مسائل کا مسلسل سامنا ہے۔ حکمت عملی کے فقدان کی وجہ سے بھی متضاد نتائج سامنے آرہے ہیں۔
ناکامی کی دوسری بڑی وجہ ٹیم کو بغیر کسی فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر کے آسٹریلیا بھیجنا تھا، جس کی وجہ سے ٹیم کے پاس آپشنز کم رہ گئے ہیں۔ اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے ٹیم میجمنٹ کو مستقبل کے حوالے سے پلاننگ ترتیب دینا ہوگی۔
پرتھ میں پاکستانی گیند بازوں نے نیدرلینڈز کو 20 اوورز میں 91 رنز تک محدود کردیا تاہم بلے بازوں نے ایک عام باؤلنگ لائن اپ کے خلاف ناقابل یقین انداز میں جیت دلائی۔
آسٹریلیا پہنچے والی ٹیم پاکستان کو چار فاسٹ باؤلر کا ساتھ حاصل ہے۔ نیدرلینڈز کے خلاف فاسٹ باؤلر کا اٹیک مضبوط ثابت ہوا۔ محمد وسیم نے ایک بار پھر دو وکٹیں لے کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کردیا جبکہ شاداب خان کی تین وکٹوں نے ٹیم ہالینڈ کی اننگز کا گلا گھونٹ دیا۔
پاکستان ٹیم کا باؤلنگ اٹیک اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کسی بھی ٹیم کا مقابلہ کرسکتا مگر سلیکشن کا مسئلہ بیٹنگ سائیڈ پر آتا ہے۔ تین اسپن باؤلنگ آل راؤنڈرز شاداب، محمد نواز، اور افتخار احمد ابھی تک کوئی خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھاسکے۔
ٹیم کی بیٹنگ سائیڈ کو مضبوط کرنے کے لیے متبادل بلے بازوں کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ ٹیم میں موجود کسی بھی بلے باز اعتماد کیا جانا مشکل دکھائی دے رہا ، آصف علی اور حیدر علی میں اعتماد کا فقدان ہے۔
کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان پر پاکستان کا حد سے زیادہ انحصار بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ پورے ٹورنامنٹ میں بابر اعظم کی حکمت عملی بری طرح سے ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ محمد رضوان پرتھ میں رنز بنا کر واپس تو آ گئے، کیونکہ نیدرلینڈز کے گیند بازوں نے وہ باؤنس نہیں نکالا ، جیساکہ زمبابوے کے گیندبازوں نے پاکستان کے بلے بازوں کو پریشان کر رکھا تھا۔
پاکستان کی امیدیں اب بھی ایک دھاگے سے جڑی ہوئی ہیں ، ٹیم پاکستان کو اپنی کمزوریوں پر قابو پانا ہو گا ، بیٹنگ حکمت عملی پھر سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے ، تاکہ T20 کرکٹ میں ملک کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔
تمام فارمیٹس میں بطور کپتان بابر اعظم کی تعیناتی نے بھی کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جدید کھیل ایک کھلاڑی پر سارے بوجھ ڈالنا کسی بھی طور پر درست نہیں۔
یہ مسائل پس پردہ نہیں اٹھائے جا رہے ہیں، اور یہ ایسے مسائل ہیں جنہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی حکمت عملی کو ایک جانب رکھ دیا ہے۔ موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے کسی معجزے کو مسترد کرنا غلط ہوگا، حالانکہ کامیابی کی امیدیں کمزور بنیادوں پر استوار ہیں۔ یہ عالمی معیار کی کرکٹ کے لیے شرم کی بات ہے کہ پاکستان کو ہر مرتبہ اپنے باؤلنگ اٹیک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔









