ڈیجیٹل میڈیا کی دوڑ میں پی پی پی اور ن لیگ تحریک انصاف سے بہت پیچھے ہے، احمد جواد

وزیراعظم شہباز شریف کے سابق فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا احمد جواد نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ڈیجیٹل میڈیا کی دوڑ میں پی ٹی آئی سے بہت پیچھے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کے سابق معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا احمد جواد نے کہا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ڈیجیٹل میڈیا کی دوڑ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بہت پیچھے ہیں۔

کینیا میں پولیس کے ہاتھوں سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کے بعد احمد جواد نے اپنے ضمیر کی آواز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بے اختیار حکومت کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف قتل کیس: وفاقی حکومت نے 3 رکنی کمیشن تشکیل دے دیا

وفاقی دارالحکومت میں دھرنا کیلئے تحریک انصاف کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ” پی ٹی آئ سوشل میڈیا ٹیم میں انجنیئر ، ڈاکٹر ، IT ایکسپرٹ، پڑھے لکھے لوگ ہیں ، ان میں کوئی پہلے سیاست سے منسلک نہیں رہا۔”

انہوں نے لکھا ہے کہ "مسلم لیگ ن کے پاس ایسی کوالٹی نہیں ، پیپلز پارٹی کے پاس بیچنے کو کچھ نہیں۔”

احمد جواد نے مزید لکھا ہے کہ "اسٹیبلشمنٹ ڈیجیٹل دور میں بیانیہ کنٹرول نہیں کر سکتی۔ اسلئے مقابلہ یکطرفہ ہے۔”

چند روز قبل احمد جواد نے ارشد شریف کے قتل سمیت مختلف معاملات پر وفاقی حکومت سے اختلافات کے بعد ڈیجیٹل میڈیا پر وزیراعظم کے فوکل پرسن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

احمد جواد نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ "جب PTI تانگہ پارٹی تھی تو PTI میں شامل ہوا اور اُس وقت چھوڑا جب وہ حکومت میں تھی اورطاقت ور تھی۔”

انہوں نے مزید لکھا تھا کہ "مسلم لیگ ن میں شامل ہوا جب وہ اپوزیشن میں اور کمزور تھی اور چھوڑا جب وہ حکومت میں اور طاقت ور تھی۔”

سابق فوکل پرسن احمد جواد کا کہنا تھا "میری سیاست میں سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ میں نے سیاست میں نئے اصول متعارف کروا دیئے۔”

واضح رہے کہ احمد جواد نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کی انکوائری کا نتیجہ وہی نکلے گا جو لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور وہ ملک کی ’آزادی‘ کی ’آخری کڑی ہو گی۔

متعلقہ تحاریر