عمران خان کی الیکشن ایکٹ کی شق 137(4) کے تحت نااہلی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

عدالت عالیہ نے این 95 میانوالی کے ووٹر کی درخواست پر وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے

این اے 95 میانوالی کے  ووٹر جابر عباس خان نے الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 137(4) کے تحت توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی نااہلی  لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

عدالت نے شہری کی جانب سے دائر درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے  وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیے۔

 درخواست گزار جابر عباس خان نے درخواست دائر میں کابینہ ڈویژن، پارلیمانی امور، داخلہ اور اوورسیز کی وزارتوں اور الیکشن کمیشن  کے تمام اراکین   کو فریق نامزد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مارشل لا لگانا ہے تو لگادیں مجھے نہ ڈرائیں، عمران خان

اگر کرپٹ کے ساتھ کھڑے رہو گے تو تم بھی کرپٹ کہلاؤ گے ، عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ پر ایک اور وار

انگریزی روزنامہ ڈان  کے مطابق درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو انتخابی قانون کے سیکشن 137 (4) (کرپٹ پریکٹس پر مقدمہ چلانے کا اختیار)، 167 (کرپٹ پریکٹس) اور 173 (جھوٹا بیان یا اعلان کرنا) کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے لیکن ان شقوں  میں لفظ”نااہلی“ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

انہوں نے مزید دلیل دی کہ توشہ خانہ کے تحائف اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی تفصیلات کو ظاہر  نہ کرنا نااہلی کا باعث نہیں بنتا، کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے 120 دنوں کے اندر استغاثہ شروع کرنے کی صورت میں ہی کارروائی ممکن  ہے ۔

وکیل نے وضاحت کی کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 کے تحت قانونی چارہ جوئی صرف اثاثہ جات کے جھوٹے گوشوارے داخل کرنے کے 120 دنوں کے اندر شروع کرنا ممکن ہے تاہم عمران خان کے کیس میں ایسا آخری بیان 31 دسمبر 2021 کو دائر کیا گیا تھا، اس لیے اس سال 30 اپریل تک مقدمہ چلایا جا سکتا تھا، لیکن اس وقت تک مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

انہوں نے استدلال کیا کہ الیکشن  کمیشن  کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 63 (1) (پی) کے تحت نااہلی کی طرف راغب کیا جو الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 اور 173 کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے شق 137 کے تحت عمران خان  کو غیر قانونی طور پر نااہل قرار دیا ہے کیونکہ اس شق کے تحت   نااہلی نہیں بنتی بلکہ صرف تین سال کی سزا یا جرمانہ یا دونوں  سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

وکیل نے لاہور ہائیکورٹ سے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137(4) کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے اور درخواست کے زیر التوا ہونے کے دوران الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں کوئی   کارروائی کرنے سے روکا جائے۔جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے دلائل سننے کے بعد فریقین سے 11 نومبر تک جواب طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے بھی معاونت طلب کرلی۔

متعلقہ تحاریر