سی پیک منصوبوں کی رفتار: مسلم لیگ ن کے رہنما عمران خان دشمنی میں چینی قونصل جنرل کو جھٹلانے لگے

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر سی پیک منصوبوں کے حوالے سے عمران خان کی قیادت والی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف الزام تراشی کا کھیل شروع کردیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت عمران خان کی دشمنی میں چینی قونصل جنرل کو جھٹلانے کے  در پر ہو گئی ہے ، دو دن پہلے احسن اقبال نے بیان جاری کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سی پیک پر کوئی کام نہیں ہوسکا تھا جبکہ کل مریم نواز نے اپنی پریس ٹاک میں کہہ دیا کہ عمران خان کے دور میں سی پیک پر ایک انچ بھی کام نہیں ہوا تھا اب خواجہ سعد رفیق نے اپنی قیادت کے نقشے پر چلتے ہوئے ملتا جلتا بیان جاری  کردیا ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کے مرکزی رہنماؤں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر ، عمران خان کی قیادت والی سابقہ حکومت پر سی پیک کے حوالے سے الزام تراشی کا کھیل شروع کردیا ہے جوکہ چینی سفیر کے بیان سے قطعی طور پر متصادم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عامر فاروق کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے چیف جسٹس نامزد کردیا

ریکوڈک معاملات میں صرف آئینی سوالات پر ہی بات کی جائے گی، چیف جسٹس

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبوں کی رفتار سے متعلق چینی سفیر کے بیان کی تردید کی جارہی ہے جو انہوں نے سی پیک پر کام کی رفتار سے متعلق رواں سال اگست میں دیا تھا۔

خواجہ سعد رفیق کا ٹوئٹ

سی پیک پر کام کی رفتار کے حوالے سے ن لیگ کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "عمران خان حکومت نے سی پیک کے تمام پراجیکٹس پس پشت ڈال دیئے۔”

خواجہ سعد رفیق نے مزید لکھا ہے کہ "ایم ایل 1 کی لاگت 6.8 امریکی ڈالر تھی اور مدت تکمیل 6 برس طے تھی، ٹکے کا کام کیا نہیں ، مگر لاگت 9۰8 امریکی ڈالر کردی اور مدت تکمیل 9 برس طے کر گئے، یہی حال KCR (کراچی سرکلر ریلوے) کا ھے۔ کس کی جان کو روئیں؟؟ اب پھر صفر سے شروع کر رھے ھیں!!۔؟

احسن اقبال کا بیان

اسی طرح وفاقی  وزیر منصوبہ بندی احسن  اقبال نے گذشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں  کہا تھا کہ "پی ٹی آئی کی حکومت نے 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد میگا اقتصادی منصوبے پر بے بنیاد الزامات لگا کر سی پیک کو پیچھے دھکیل دیا۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ "افواہوں اور الزامات کے نتیجے میں سی پیک میں نئے منصوبے شامل نہیں کیے گئے۔”

چینی قونصل جنرل کا بیان

واضح رہے کہ رواں سال اگست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سی پیک پر حکومتی وزراء کی جانب سے منفی بیانات کو رد کرتے ہوئے چینی قونصل جنرل لی بیجیان نے بیان جاری کیا تھا ، جس میں ان کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے فریم ورک پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں کام سست روی کا شکار نہیں ہوا تھا۔

China rubbishes rumours of CPEC slowdown during PTI rule

ایک مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ سے بات کرتے ہوئے، لی بیجیان نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کردیا تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے فلیگ شپ پروجیکٹ سی پی ای سی پر کام گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران سست روی کا شکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "Covid-19 وبائی امراض اور سیکورٹی کے مسائل کی وجہ سے کام سست ہو گیا تھا۔ تاہم کام روکنے کے حوالے سے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔”

انہوں نے پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان اختلاف کی خبروں کو مسترد کردیا تھا۔ لی بیجان نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے باہمی اعتماد، باہمی افہام و تفہیم اور باہمی تعاون کا رشتہ قائم ہے اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط  ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ "پالیسیوں میں تبدیلی سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہے اور یہی چیز CPEC کے منصوبوں میں دیکھی جا رہی ہے۔”

انہوں نے اس امید ظاہر کی کہ تمام مستقل مسائل جلد حل ہو جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تمام رہنما عمران خان کی دشمنی میں چینی سفیر کو جھٹلارہے ہیں ، یعنی چینی حکومت کو جھٹلارہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر