حکومت نے سوشل میڈیا کی مشکیں کسنے کیلیے ایف آئی اے کو کارروائی کا اختیار دیدیا
وفاقی کابینہ نے گزشتہ سرکولیشن سمری کے ذریعے ایف آئی اے ایکٹ 1974 میں ترمیم کی منظوری دی، قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ایف آئی اے کو اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کا اختیار مل جائے گا، جرم کے مرتکب افراد 7 سال قید یا جرمانہ ہوگا۔

وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کی مشکیں کسنے کیلیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو کارروائی کا اختیار دیدیا۔
وفاقی کابینہ نے گزشتہ ہفتے وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی ایف آئی اے ایکٹ 1974 میں ترمیم سے متعلق سمری کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کا آزادی مارچ طوالت کیوں اختیار کررہا ہے؟ نیوز 360 نے کھوج لگالیا
اسلام آباد ہائیکورٹ کا دھرنے کے لیے پی ٹی آئی کی استدعا پر اداروں کو نوٹس
انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق منگل کو انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جو اسے کسی بھی ایسے شخص کے خلاف کارروائی کا اختیار دے گی جو سوشل میڈیا پر’ریاستی اداروں کے خلاف افواہیں اور غلط معلومات‘ پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
روزنامہ ڈان کو دستیاب سمری کے مطابق”ایف آئی اے نے مطلع کیا ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا ریاستی اداروں اور تنظیموں کے خلاف غلط معلومات اور افواہوں سے بھرا ہوا ہے جس کا مقصد پاکستان کی فوج، بحریہ یا فضائیہ کے کسی افسر، سپاہی، ملاح یا ہوا باز کو بغاوت یا جرم پر اکسانا یا بھڑکانا یا بصورت دیگر اپنے فرض میں کوتاہی کی ترغیب دینا ہے“۔
سمری میں مزید کہا گیا ہے کہ ” یہ افواہیں اور غلط معلومات اس مقصد کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہیں کہ عوام میں یا عوام کے کسی بھی طبقے میں خوف یا خطرے کی فضا پیدا کرکے کسی بھی شخص کو ریاست یا عوامی سکون کے خلاف جرم کرنے پر اکسایا جا سکتا ہے“۔
یف آئی اے نے مزید کہا کہ”یہ ممکنہ طور پر کسی بھی طبقے یا افراد کی کمیونٹی کو کسی دوسرے طبقے یا برادری کے خلاف کوئی جرم کرنے کے لیے اکسائیں گے“۔
ایجنسی نے حکومت کو بتایا کہ اس جرم پر پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کے سیکشن 505 (عوامی فساد کو ہوا دینے کا بیان) کے تحت موضوعی جرم کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جو فی الحال ایف آئی اے ایکٹ کے شیڈول میں شامل نہیں ہے اور اس سیکشن کو طے شدہ جرائم میں شامل کرنے کے لیے ریاست کی منظوری درکار ہے۔
پی پی سی سیکشن 505 کی ذیلی دفعہ ایک میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص اس کے متعلقہ جرم کا ارتکاب کرتا ہوا پایا جائے گا اسے جرمانے کے ساتھ سات سال تک کی قید کی سزا دی جائے گی۔
ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ پہلے انہیں کابینہ کی منظوری درکار ہوتی تھی اور دیگر بیوروکریٹک تقاضے بھی تھے لیکن اس سیکشن کی شمولیت سے اب وہ بلاتاخیر کارروائی کر سکیں گے۔
انہوں نے کہاکہ اس سیکشن کی شمولیت کےبعد انسداد دہشت گردی ونگ سمیت ایف آئی اے کے دیگر ونگز بھی اپنے دائرہ کار میں آنے والے ایسے کسی بھی مواد کے خلاف مقدمے کے اندراج سمیت دیگر کارروائی کرسکیں گے۔
جیو نیوز کے مطابق ایف آئی اے ایکٹ میں ترمیم کی حتمی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے گی جس کے بعد ایف آئی اے سوشل میڈیا پرنفرت آمیز مواد پر کارروائی کرسکے گی، سمری کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اداروں کیخلاف غلط معلومات پھیلانے کے جرم کے مرتکب افراد کو7 سال تک قید کی سزا ہوسکے گی۔یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی شدید اعتراض کرکے پیکا ایکٹ کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔









