سی ٹی ڈی کی کارروائی، چینی ڈاکٹر کے قتل میں ملوث دہشتگرد گرفتار

ایس ایس پی طارق نواز کا کہنا ہے گرفتار دہشتگرد کا تعلق کالعدم تنظیم ایس آر اے ہے جس کا سربراہ ذوالفقار خاصخیلی ہے۔

کراچی: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) اور حساس ادارے نے گلستان جوہر میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے رواں سال ستمبر میں کراچی کے علاقے صدر میں چینی ڈاکٹر کو گولیاں مار کے قتل کرنے والے دہشتگرد کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور حساس ادارے نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے گلستان جوہر سے کراچی کے معروف کاروباری علاقے صدر میں چینی ڈاکٹر کو گولیاں مار کے قتل کرنے والے دہشتگرد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ایس ایس پی طارق نواز کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دہشتگرد کا تعلق کالعدم تنظیم ہے جو کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں تخریبانہ کارروائیاں کرچی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

متنازع ٹویٹس کیس: اعظم سواتی کا عدالت میں لمبی جنگ لڑنے کا اعلان

وفاقی وزیر داخلہ عمران خان کو گرفتاری سے قبل ہی مرچی وارڈ میں رکھنے کے لیے بےتاب

ایس ایس پی طارق نواز کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی نے کراچی صدر جیسے طرز کی تخریب کاری ناکام بنادی ہے۔

Letter from Counter Terrorism Department

ان کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش گرفتار ملزمان نے اس بات کا انکشاف ہے کہ اسے حیدرآباد میں چینی باشندوں کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

طارق نواز کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار دہشتگرد افضل لنڈ عرف عافی کا تعلق کالعدم تنظیم ایس آر اے سے ہے۔ تنظیم کا سربراہ ذوالفقار خاصخیلی ہے۔

ایس ایس پی طارق نواز کے مطابق دہشتگرد نے دوران تفتیش اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ذوالفقار خاصخیلی نے حیدرآباد میں چینی ڈینٹل کلینک پر حملہ کا ٹاسک دیا تھا ، ملزم نے حملے سے متعلق ریکی بھی کرلی تھی۔

ایس ایس پی طارق نواز کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ رواں 29 ستمبر کو کراچی کے علاقے صدر میں ایک چینی ڈینٹل ڈاکٹر کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

قتل یہ واقعہ شہر قائد کے مشہور و معروف کاروباری مرکز صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب پیش آیا۔ پولیس حکام کے مطابق ایک شخص ڈینٹل کلینک میں علاج معالجے کی غرض سے آیا تھا اور اس نے ڈاکٹر پر فائرنگ کردی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے چینی شہری کی  ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی کو قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ تحاریر