حل صرف جماعت اسلامی، اگلا میئر نعیم الرحمان، کراچی  نے فیصلہ سنادیا

پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں 51فیصد شہریوں نے حافظ نعیم الرحمان کو شہر کی سب سے توانا آواز، 46 فیصد نے مسائل کا حل اور 58فیصد نے اگلامیئر قرار دیدیا، مصطفیٰ کمال کا دوسرا اور فردوس شمیم نقوی کا تیسرا نمبر،سندھ حکومت نے پھر کراچی میں بلدیاتی الیکشن سے راہ فرار اختیار کرلی۔

کراچی کے شہریوں کی اکثریت نے پلس کنسلٹنٹ کے حالیہ سروے میں جماعت اسلامی کو اپنی نمائندہ جماعت  اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کو اگلا میئر کراچی قرار دیدیا۔

میئر کے پسندیدہ امیدواروں میں پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال شہریوں کا دوسرا جبکہ تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی تیسری ترجیح قرار پائے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے انتظار میں 12 امیدوار دنیا سے رخصت ہوگئے

کراچی کے بلدیاتی انتخابات: سندھ حکومت پولیس نہ ہونے کا عذر لے آئی

پلس کنسلٹنٹ  نے ”کراچی والوں کے لیے سب سےزیادہ آواز اٹھانے والے رہنما“ کے عنوان سے ایک سروے کا اہتمام کیا ہے۔  ۔ پلس کنسلٹنٹ  کے ٹوئٹر  ہینڈل کے مطابق  اکتوبر 2022 میں کیے گئے حالیہ سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کراچی والے اپنی قیادت کے انتخاب کے بارے میں بہت واضح ہیں۔

پلس کنسلٹنٹ نے  کراچی کے تمام 07 اضلاع میں ایک ہزار سے زائد  جواب دہندگان سےایک سروے کیا اور کراچی کی قیادت کے بارے میں تین سوالات پوچھے۔

کون سا سیاسی رہنما کراچی کے مسائل پر زیادہ آواز اٹھاتا ہے؟

کون سا سیاسی لیڈر کراچی کے مسائل حل کر سکتا ہے؟

کراچی کا اگلا میئر کس سیاسی رہنما کو ہونا چاہیے؟

 اس سروے میں عوام کی اکثریت نے  جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کو شہر کی سب سے تواناآواز قرار دیا۔مندرجہ بالا سوالات کے جواب میں

مندرجہ بالا تمام سوالات کے جواب میں   تقریباً 50فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نےحافظ نعیم کو اپنا پسندیدہ سیاسی رہنما قرار دیا۔

51 فیصد جواب دہندگان نے حافظ نعیم الرحمان کو کراچی کے مسائل پر سب سے زیادہ توانا آواز قرار دیا جبکہ 14 فیصد نے مصطفیٰ کمال اور 6فیصد فردوس شمیم نقوی کانام لیا۔46فیصد رائے دہندگان نے قرار دیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کراچی کے مسائل حافظ نعیم الرحمان  ہی حل کرسکتے ہیں جبکہ 12 فیصد مصطفیٰ کمال اور 8 فیصد نے فردوس شیم نقوی کو نجات دہندہ قرار دیا۔

کراچی کے 58فیصد شہریوں نے قرار دیا کہ وہ حافظ نعیم الرحمان کو اگلا میئر کراچی دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ 16 فیصد نے مصطفیٰ کمال اور 7 فیصد نے فردوس شمیم نقوی کو اپنا اگلا میئر قرار دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کو  صرف 5 فیصد جواب رائے دہندگان نے اگلا  میئر قرار دیا۔

سروے کے نتائج  کے مطابق کراچی کے عوام کی اکثریت  جماعت اسلامی  کو کے الیکٹرک کی بلنگ،اسٹریٹ کرائمز ، بااختیار مقامی حکومت  اور کراچی کے مجموعی مسائل  کیلیے سب سے تواناآواز اٹھانے والی سیاسی جماعت سمجھتی ہے ۔

سروے میں 51 فیصد رائے دہندگان نے قرار دیا کہ جماعت اسلامی کے الیکٹرک کی بلنگ کیخلاف سب سے تواناآواز ہے جبکہ 9 فیصد تحریک انصاف اور 6 فیصد نے اس سوال کے جواب میں پیپلزپارٹی کا نام لیا۔

کراچی کے 27 فیصد شہریوں نے اسٹریٹ کرائمز کیخلاف جماعت اسلامی کو سب سے تواناآواز قرار دیا جبکہ10 فیصد نے تحریک انصاف اور 8 فیصد نے پیپلزپارٹی کو توانا آواز قرار دیا تاہم 47فیصد کی اکثریت نے کہا کہ شہر میں کوئی جماعت اسٹریٹ کرائمز کیخلاف آواز نہیں اٹھارہی۔

38فیصد رائے دہندگان نے جماعت اسلامی کو بااختیار مقامی حکومت کیلیے سب سے موثرآواز اٹھانے والی جماعت قرار دیا جبکہ 14 فیصد نے تحریک انصاف اور 7 فیصد نے پیپلزپارٹی کے حق میں رائے دی۔

44فیصد رائے دہندگان نے کراچی کے عمومی مسائل پر جماعت اسلامی کو سب سے توانا آواز قرار دیا جبکہ 15فیصد کے ساتھ تحریک انصاف دوسرے اور 10فیصد کے ساتھ پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر رہی۔

دریں اثنا  سندھ حکومت نےایک مرتبہ پھر کراچی میں بلدیاتی الیکشن سے راہ فرار اختیار کرلی اور آئندہ  3 ماہ تک کراچی میں بلدیاتی الیکشن کر انے سے معذرت کر تے ہوئے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انعقاد کے لئے لکھے گئے خط کا جواب دے دیا۔

سندھ حکومت نے خط میں موقف اپنایا ہے سندھ میں پولیس فورس موجود نہیں ہے، کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لئے 37 ہزار پولیس اہلکار درکار ہیں تاہم سیلاب کے باعث 17 ہزار اہلکار دیگر اضلاع سے نہیں آ سکتے، لانگ مارچ کیلئے 5ہزار اہلکار سندھ سے اسلام آباد گئے ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی درخواست پر پولیس اہلکار سندھ سے اسلام آباد بھیجے گئے ہیں جس کے باعث کم از کم 3 ماہ بلدیاتی الیکشن نہیں کر ائے جا سکتے ہیں ۔یاد رہے کہ 29 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے کراچی کے 7 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کر انے کے لئے سندھ حکومت کو خط لکھ کر جواب مانگا تھا

متعلقہ تحاریر