وزارت ریلوے کا 15 برس بعد سبی ہرنائی سیکشن بحال کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عوام کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے سبی ہرنائی سیکشن پر تین ماہ میں ریلوے آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

بلوچستان کے عوام کے لئے خوش خبری ہے کہ سبی ہرنائی سیکشن کو 15 برس بعد فعال کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔ وزیر ریلوے نے سبی ہرنائی سیکشن پر عملے کو تین ماہ میں ریلوے آپریشن شروع کرنے کی ہداہت کردی۔

بلوچستان کے علاقے سبی اور ہرنائی کے درمیان 15 برس سے بند سبی ہرنائی ریلوے سیکشن پر دوبارہ ریل چلانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کا عوام برسوں سے مطالبہ کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کا بھی عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع

نواز شریف کا عمران خان کے خلاف شہباز شریف سے سخت کارروائی کا مطالبہ

اس طرح سبی اور ہرنائی کے درمیان پہاڑی علاقوں میں انجن کی سیٹی جلد سنائی دے گی۔ 1883 میں برطانوی دور حکومت میں ہرنائی اور سبی کے درمیان ریلوے لائن کا منصوبہ بنایا گیا تھا کو اس دور کا ایک عجوبہ تھا۔ سبی ہرنائی، ناکس شاہرگ اور خوست کے درمیان دہائیوں تک ٹرین چلتی رہی۔

Balochistan: Sibi Harnai Railway Section

2006 کو نامعلوم افراد نے پانچ 5 بڑے ریلوے پلوں اور ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا جس کے بعد ریلوے سروس معطل ہوگئی تھی اور تقریباً دس برس بعد ریلوے ٹریک کی بحالی کا کام شروع کیا گیا مگر ٹریک کی بحالی کے باوجود سکیورٹی وجوہات کی بنا پر برسوں تک اس سیکشن پر ٹرین نہ چل سکی۔

رواں برس سیلاب سے بھی اس ٹریک کو نقصان پہنچ تھا ۔عوام برسوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ اس ٹریک پر مسافر اور مال بردار ٹرین چلائی جائیں۔

ہرنائی وسائل سے مالامال علاقہ ہے جس کے پہاڑ معدنیات کی دولت سے مالامال ہیں جب کہ یہ علاقہ زرعی اجلاس اور پھلوں کی پیداوار کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔

Balochistan: Sibi Harnai Railway Section

جب یہ ریلوے لائن فعال تھی تو روزانہ ہرنائی سے بذریعہ ٹرین ہزاروں ٹن کوئلہ اندرون ملک براستہ سبی سپلائی ہوتا تھا جو علاقے کے عوام کی آمدن کا اہم ذریعہ تھا اور اس سے محکمہ ریلوے کو بھی ہر ماہ خطیر آمدن ہوتی تھی۔

مقامی آبادی کو اس سے سفری سہولتوں اور روزگار میسر آتا تھا۔

وفاقی حکومت نے عوام کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے سبی ہرنائی سیکشن پر تین ماہ میں ریلوے آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

متعلقہ تحاریر