تحریک انصاف نے اسلام آبادہائیکورٹ سے دھرنے کا این او سی مانگ لیا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کی جانب سے دھرنے کیلئے این او سی کے حصول کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 3 اور 5 نومبر کو  دھرنے کی اجازت مانگی تھی تاہم وہ تاریخیں گزر گئیں،عدالت عالیہ نے علی نواز اعوان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی اجازت سے متعلق اسلام آباد انتظامیہ کی درخواست پر پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان سے جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے  پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان اور ضلعی انتظامیہ کی متفرق درخواست کو یکجا کر کے سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کا منگل کے روز سے وزیرآباد سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

تحریک انصاف کی جانب سے درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی تھی کہ انہیں  اسلام آباد میں جلسے اور دھرنے کا این او سی جاری کیا جائے ۔

وفاقی داراحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ دینے اور این او سی کے حصول کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ  تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 3 نومبر  اور5 نومبر کو جلسے اور دھرنے کی اجازت مانگی تھی تاہم دونوں تاریخیں  گزرگئی ہیں۔

اسلام آباد انتظامیہ کےوکیل نے کہا کہ وہ تاریخ گزر چکی اور پی ٹی آئی کی درخواست غیر موثر ہو چکی ہے ۔ ہم نے پی ٹی آئی کی درخواست خارج کرنے کی متفرق درخواست بھی دائر کی ہے۔

عدالت عالیہ نے ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی متفرق درخواستوں پر پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کرلیا اور مقدمہ کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر