دعا زہرا کیس شیطانی چکر میں پھنس گیا ، جج کی کیس سننے سے معذرت
جج جسٹس صلاح الدین پنہور نے لڑکی کے اغوا کیس کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کیس دوسری عدالت میں بھیج دیا ہے۔

کراچی سے اغواء کے بعد پنجاب سے بازیاب ہونے والی بچی دعا زہرا کا کیس مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے ، کیس میں ایک اور ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے ، سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) کے جج جسٹس صلاح الدین پنہور نے لڑکی کے اغوا کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔
سندھ ہائی کورٹ کے جج نے بچی کے اغوا کیس کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کیس کو دوسری عدالت میں بھیج دیا۔ کیس کی سماعت اب 17 نومبر کو دوبارہ شروع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے
سپر ہائی وے بحریہ ٹاؤن کے قریب خوفناک حادثہ ، 2 خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق
دعا زہرا کیس: سندھ ہائی کورٹ کی میڈیکل رپورٹ پبلک کرنے پر کارروائی کی ہدایت
ہائی کورٹ میں ملزمان ظہیر احمد اور شبیر احمد کی ضمانت منسوخی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران ملزم ظہیر احمد نے عدالت سے اپنی مبینہ اہلیہ دعا زہرہ سے ملاقات کی اجازت مانگ لی۔
گذشتہ دنوں کیس کی سماعت کے دوران دعا زہرا کی ذہنی صحت کی ڈاکٹر فاطمہ ریاض نے خلل ڈالا تھا۔ ڈاکٹر فاطمہ ریاض کو محکمہ صحت سندھ نے بازیاب ہونے والی لڑکی کی ذہنی صحت میں مدد کے لیے بھیجا تھا۔
نیوز 360 کی معلومات کے مطابق ماہر نفسیات ڈاکٹر فاطمہ ریاض نے لڑکی کے والد مہدی علی کاظمی سے رابطہ کیا اور ان کے گھر پہنچ کر ڈرامہ رچایا۔ مزید یہ کہ انہوں نے کیس کے حوالے سے مہدی علی کاظمی کے وکیل جبران ناصر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
ماہر نفسیات ڈاکر فاطمہ ریاض نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کا رابطہ نمبر حاصل کرنے کے لیے بھی مختلف لوگوں سے رابطے کیے۔ ڈاکٹر فاطمہ نے جج پر سنگین الزامات بھی لگائے۔
مغویہ بچی دعا زہرا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےبتایا کہ آج عدالت میں دو کیسز کی سماعت تھی ، ایک درخواست ملزم ظہیر احمد کی تھی کہ اس کی ملاقات دعا زہرا سے کرائی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔
وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ محترم جج صاحب نے کیس کو مزید سننے سے انکار کردیا ہے ، کیونکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عدالت میں کچھ ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے تھے۔ جج صاحب نے کیس نہ سننے کی وجوہات نہیں بتائی ہیں۔
وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ نے دوران سماعت جج صاحب پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جو سین کرایٹ کیا ، اس کے بعد ہم نے ان کے خلاف بھی درخواست دائر کی ہے کہ اب ان کی رپورٹ بھی تسلیم نہ کی جائے۔ یہ کیسی ڈاکٹر ہیں جو رپورٹ کو فیس بک پر شائع کررہی ہیں۔
جبران ناصر نے صوبائی محکمہ صحت پر ایسے ڈاکٹر کی تقرری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کیس سے متعلق تمام ڈاکٹرز لیاری جنرل ہسپتال یا شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری سے آتے ہیں ، جبکہ دوسرے ہسپتالوں سے بہترین ڈاکٹرز بھیجے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے سیکرٹری صحت سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں بصورت دیگر ان کے پاس دوبارہ عدالت جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
سندھ ہائی کورٹ کے جج کی جانب سے کیس کی سماعت سے معذرت کے بعد ٹرائل کورٹ اب 17 نومبر کو دوبارہ سماعت شروع کرے گی۔









