اسٹیٹ بینک نے مسافروں کے لیے بیرون ملک ڈالر لے جانے کی لمٹ مزید کم کردی

مرکزی بینک کے نوٹی فیکیشن کے مطابق بیرون ملک سفر کرنے والے مسافر اب 10 ہزار ڈالر کی بجائے 5 ہزار ڈالر لے جاسکیں گے۔

بیرون ملک کرنسی لے جانا اور بھی مشکل ہوگیا، اسٹیٹ بینک نے قوانین مزید سخت کردیئے، اب بیرون ملک  10 ہزار کی بجائے 5 ہزار ڈالر ہی کیش لے جانے کی اجازت ہوگی۔ اسٹیٹ بینک کا سرکلر آگیا۔

اسٹیٹ بینک نے سفر، اور ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگی کے لیے زرِ مبادلہ کی حد کو مزید سخت بنا دیا ہے اور  یہ فیصلہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے درمیان 7 نومبر کو ہونے والی ملاقات میں کیا گیا تھا۔

اب اس پر عمل درآمد کے لیے اسٹیٹ بینک نے سرکلر جاری کردیا ہے۔

اس سرکلر میں بیرون ملک کرنسی لے جانا اور بھی مشکل ہوگیا، اسٹیٹ بینک نے قوانین مزید سخت کردیئے، اب بیرون ملک  10 ہزار کی بجائے 5 ہزار ڈالر ہی کیش لے جانے کی اجازت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کا غیرقانونی ایکسچینج آپریٹرز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

اسٹیٹ بینک  آف پاکستان نے سفری مقاصد کے لیے غیر ملکی نقد کرنسی لے جانے کی موجودہ حد پر نظر ثانی کی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ اسے مزید معقول بنایا جائے۔

نظرثانی شدہ حد کے مطابق 18 سال اور اس سے زائد عمر کے (بالغ) افراد اب پاکستان سے 5,000امریکی ڈالر کے مساوی غیر ملکی کرنسی فی دورہ لے جا سکتے ہیں ، جبکہ 18 سال سے کم عمر (نابالغ) افراد  کو فی  دورہ  2,500 امریکی ڈالر کے مساوی غیر ملکی کرنسی لے جانے کی اجازت ہوگی۔

مزید برآں، بالغ اور نابالغ افراد کے لیے غیر ملکی کر نسی لے جانے کی سالانہ حد بالترتیب 30,000 امریکی ڈالر اور 15,000 امریکی ڈالر  ہوگی۔

افغانستان کا سفر کرنے والوں کے لیے غیر ملکی کرنسی  کی پہلے بتائی گئی (اسٹیٹ بینک نوٹیفکیشن نمبر FE 2/2021-SB مورخہ 06 اکتوبر2021 ء کے مطابق )موجودہ حد برقرار رہےگی۔  غیر ملکی کرنسی کی فی دورہ حدیں فوری طور پر نافذ ہوں گی، جبکہ سالانہ حدیں یکم جنوری 2023 ء سے لاگو ہوں گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مشاہدہ ہے کہ ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز ایسے لین دین کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جو متعلقہ فرد کی خصوصیات (پروفائل) کے مطابق نہیں یا یہ کارڈز تجارتی مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔چنانچہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ بات یقینی بنانے کا مشورہ دیا ہے کہ بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے  ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز کا استعمال کارڈ ہولڈرز کی انفرادی خصوصیات کے مطابق اور ان کی صرف ذاتی ضروریات کے لیے ہو۔

یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ ڈیبٹ/ کریڈٹ کارڈز کا مقصد افراد کو ذاتی نوعیت کے لین دین کی ادائیگی میں سہولت دینا ہے۔ ان کارڈز کا  استعمال  اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی ادائیگیوں کی حد  کارڈ ہولڈر کی انفرادی خصوصیات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ یہ یقینی بنانا صارف کی ذمہ داری ہوگی کہ اس کی سالانہ حد کسی بھی موقع پر عبور نہ ہونے پائے۔ تاہم بینکوں کو چاہیے کہ مجموعی بنیاد پر ہر فرد کی ان حدود کی نگرانی کریں۔

قانونی دائرے میں کاروبار سے متعلق بیرونِ ملک کارڈز کے استعمال پر فارن ایکس چینج مینوئل کے باب 14 ، پیرا 14 اے میں ایک فریم ورک سے دستیاب ہے جس کے تحت ڈجیٹل خدمات کے حصول کے خواہاں افراد مذکورہ فریم ورک میں درج متعلقہ مالی حدود میں رہتے ہوئے سہولت استعمال کرنے کے لیے کسی بینک کا تعین کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ فرموں اور کمپنیوں کی جانب سے خدمات کے حصول کی غرض سے فارن ایکس چینج مینوئل کے باب 14، پیرا 11 میں ایک عمومی فریم ورک دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کی شرط پر عمل درآمد کرتے ہوئے پہلے پاکستان سے باہر کرنسی لے جانے کے لیے قوانین سخت کیے گئے تھے۔ اب کرنسی لے جانے کے ساتھ اس ڈکلیئریشن بھی درکار ہوگا اور اس کے ذرائع بھی کی پوچھ گچھ بھی ہوسکتی ہے۔

متعلقہ تحاریر